معروف برطانوی گلوکارہ کو ایران سے ڈی پورٹ کیوں کیا گیا؟

خاتون برطانوی گلوکارہ اپنے ’ٹوٹل ورلڈ ٹور‘ کے سلسلے میں ایران پہنچی تھیں۔ فوٹو اے ایف پی
معروف برطانوی گلوکارہ جوس سٹون کو ایران سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے جس پر گلوکارہ نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی گلوکارہ اپنے ’ٹوٹل ورلڈ ٹور‘ کے سلسلے میں جمعرات کو ایران پہنچی تھیں جس کے دوران ان کا دنیا کے ہر ملک میں گانے کا منصوبہ ہے۔  
انسٹا گرام پوسٹ میں جوس سٹون کا کہنا ہے کہ ’انہیں ایران سے واپس بھیجا گیا۔ ایران میں حکام نے اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں وہ پبلک کنسرٹ نہ کریں انہیں ڈی پورٹ کر دیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ انہیں ایران کے کش ائیرپورٹ میں مختصر وقت کے لیے تحویل میں لیا گیا اور اس کے بعد ان کو ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد خواتین پر عوامی مقامات پر گانے پر پابندی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سٹون نے انسٹاگرام پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ ایران میں پبلک کنسرٹ نہیں ہو سکتا۔ ’میں ایک خاتون ہوں اور یہ (پبلک کنسرٹ) اس ملک میں غیر قانونی ہے۔‘
سٹون نے اپنی پوسٹ میں لکھاکہ  ’اتنا قریب ہو کر بھی اتنا دور۔ اس لمحے نے میرے دل کا ایک ٹکڑا توڑ دیا‘۔ اس کے ساتھ انہوں نے کش ائیرپورٹ پر سکارف پہنے ہوئے اپنی تصویر بھی شئیر کی ہے۔

سٹون نے ورلڈ ٹور کا آغاز 2014 میں مراکش سے کیا تھا۔ فوٹو روئٹرز

ڈی پورٹ ہونے کے باوجود جوس سٹون نے ایران کے امیگریشن اہلکاروں کے رویے کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں اچھے لوگ تھے اور انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وہ نظام کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے بھاری دل کے ساتھ ان کی انٹری سے انکار کیا۔
ایران میں کنسرٹ ان کے ’ٹوٹل ورلڈ ٹور‘ کا 200 واں کنسرٹ ہوتا۔ جوس سٹون نے پانچ سال پہلے ’ٹوٹل ورلڈ ٹور‘ شروع کیا تھا جس کے دوران وہ دنیا کے ہر ملک میں گانا گانا چاہتی ہیں۔
اس ٹور کا آغاز انہوں نے مراکش سے کیا تھا اور اب تک کرغزستان، منگولیا، اردن، جنگ سے تباہ حال لیبیا، جنوبی سوڈان اور شمالی کوریا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کنسرٹ کیے۔
سٹون کی ویب سائٹ کے مطابق ان کے ٹور کا مقصد کائنات کے ہر ملک میں میوزک کے ذریعے محبت پھیلانا ہے۔

شیئر: