غوطہ خوری میں ریکارڈ ہولڈر سعودی نوجوان ڈوب کر ہلاک

پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ’ ہمیشہ تارو ہی ڈوبدے نے‘ یعنی ڈوبتے وہی ہیں جنہیں تیراکی آتی ہے کیونکہ جنہیں تیراکی نہیں آتی وہ کیسے ڈوب سکتے ہیں۔
کچھ ایسی ہی مثال سعودی عرب میں ڈوب کر ہلاک ہونے غوطہ خور بسام بخیت کی ہے جنہوں نے سمندر کی گہرائی میں غوطہ لگایا لیکن وہ اوپر نہ آ سکے اور ہلاک ہو گئے۔
امدادی ٹیموں نے 24 گھنٹے کی تلاشی کے بعد ان کی لاش سمندر سے نکال لی ہے۔
سبق اور عاجل ویب سائٹ کےمطابق وہ جمعرات کو جدہ کے ابحر علاقہ میں خوطہ خوری کی مشق کر رہے تھے جب ان کے ساتھیوں نے امدادی ٹیموں کو ان کے لا پتہ ہونے کی اطلاع دی۔

بسام بخیت کون تھے؟
کیپٹن بسام بخیت فری ڈائیونگ میں سعودی عرب کے معروف خوطہ خور تھے جنہوں نے کئی ریکارڈ قائم کیے۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ آکسیجن سلینڈر کے بغیر سمندر کی انتہائی گہرائیوں میں جاتے تھے۔ گذشتہ دنوں انہوں نے مصر کے شہر دہب میں منعقد ہونے والے عالمی مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ مقابلے میں عرب اور غیر ملکی ممتاز غوطہ خور شریک تھے۔ 
بسام بخیت نے آکسیجن سیلنڈر کے بغیر سمندر میں 71 میٹر گہرائی تک پہنچے جہاں انہوں نے دو منٹ 50 سیکنڈ رہ کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔  
فری ڈائیونگ میں آکسیجن سلینڈر اورسوئمنگ فائن کے بغیر غوطہ خوری کرنے ہوتی ہے۔ غوطہ خور ایک رسی کی مدد سے سمندر کی انتہائی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بین الاقوامی مقابلے کی تیاری
بسام بخیت جدہ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی مقابلے میں نیا ریکارڈ قائم کرنے کے لئے مشق میں مصروف تھے۔
ان کے دوست کیپٹن سراج نے بتایا ’جمعرات کوابحر میں بہادر بیچ کے قریب ہم مشق کر رہے تھے۔ چونکہ مشق آکسیجن سلینڈر کے بغیر ہوتی ہے تو غوطہ خوری کی مدت دو سے 3 منٹ سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ جب بسام کو غوطہ لگائے ہوئے 3 منٹ سے زیادہ ہوگئے تو ہمیں پریشانی ہوئی۔ تلاش کرنے کے لئے ساتھیوں نے بھی غوطے لگائے مگر ناکامی ہوئی۔ تب ہم نے سمندری سرحدی فورس کی امدادی ٹیم کو مطلع کیا کہ بسام لاپتہ ہوگیا ہے۔‘

24 گھنٹے بعد لاش ملی
مکہ ریجن میں سمندری سرحدی فورس کے ترجمان بریگیڈئیر فارس المالکی نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کو امدادی سینٹر کو بسام بخیت کے لاپتہ ہونے کی اطلاع موصول ہوئی۔ 
فوری طور پر غوطہ خوروں کی ٹیم تشکیل دی گئی جو سمندر میں اس مقام پر پہنچ گئیں جہاں بسام بخیت مشق کر رہے تھے۔ سراغ کی مہم میں رضاکار غوطہ خوروں کے علاوہ زیر سمندر جدید سکینر کا بھی استعمال کیا گیا۔ جمعرات کو اندھیرا چھانے تک نعش کا سراغ نہ مل سکا تو تلاشی مہم روک دی گئی تھی۔ 
بعد ازاں جمعہ کو علی الصباح غوطہ خوروں کی ٹیم نے تلاشی کی مہم دوبارہ شروع کی۔ آخر کار ڈوبنے کے 24 گھنٹے بعد بسام کی نعش سمندر میں 80 میٹر گہرائی سے برآمد ہوئی۔
المالکی نے توجہ دلائی کہ سمندری کھیلوں میں حصہ لینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ غوطہ خوری کے لیے مقرر کیے ہوئے ضوابط کا خیال رکھیں اور سلامتی کے اصولوں پر عمل کریں۔

شیئر:

متعلقہ خبریں