سعودی عرب کا وزٹ ویزا: کیا ’اقامہ‘میں تبدیلی ممکن؟

کسی بھی ملک  کے لیے غیر قانونی طور پر مقیم افراد  مسائل کا باعث بنتے ہیں جن کی وجہ سے  نہ صرف معیشت  متاثر ہوتی ہے  بلکہ دیگر معاشرتی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
دنیا کے ہر ملک میں دیگر ممالک  سے آنے والوں اور عارضی طور پر رہائش اختیار کرنے والوں کے لیے مخصوص پرمٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ ہر ملک اپنے قانون کے مطابق یہ پرمٹ جاری کرتا ہے جنہیں مختلف نام دیے جاتے ہیں عرب ممالک میں غیر ملکیوں کو جاری کیے جانے والے رہائشی پرمٹ کو ’ اقامہ‘ کہتے ہیں جبکہ محدود مدت کے آنے والوں کے لیے’وزٹ ویزے‘ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کو نادرا کی جانب سے ’مہاجر کارڈ‘ جاری کیے جاتے ہیں جبکہ امریکہ میں ’گرین کارڈ ‘ کا رواج ہے۔
سعودی عرب  میں غیرملکیوں کے لیے اقامہ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اس کے علاوہ وزٹ ویزے فیملی کے ممبران کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔
 سعودی عرب میں دنیا بھر سے عمرہ اور حج   پر ہر سال لاکھوں افراد آتے ہیں جن کے لیے علیحدہ سسٹم  بنایا گیا ہے۔ عمرے کی غرض سے آنے والوں کو  ’معتمرین ‘جبکہ حج ویزے پر آنے والے ’عازمین حج‘ کہلاتے ہیں۔
وزٹ ویزا کیا ہے ؟
سعودی عرب کے امیگریشن قوانین کے مطابق سعودی عرب میں مقیم وہ غیر ملکی جو باقاعدہ ورک ویزے ( اقامے ) پر کام کر رہے ہیں اور فیملی سٹیٹس کے حامل ہیں انہیں اپنے فیملی ممبران کے لیے جن میں اہلیہ ، شوہر، والدہ، والد، بیٹی، بیٹا (18 برس سے کم عمر)  اور ساس  کے لیے وزٹ ویزا جاری کرانے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
 وزٹ ویزا کی ابتدائی مدت ایک سے 3 ماہ کے لیے ہوتی ہے تاہم اس میں اضافہ ممکن ہے سنگل انٹری وزٹ ویزے کے انتہائی مدت 180 دن ہوتی ہے۔
نئے قانون کے مطابق ڈبل انٹری وزٹ ویزے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے جو ایک برس کے لیے ہوتی ہے تاہم اس کے لیےلازمی ہے کہ وزٹ ویزے پر آنے والا 6 ماہ قیام کے بعد ایگزٹ کرے اس کے لیے خواہ وہ قریبی عرب ملک ہی کیوں نہ جائے اور دوسرے دن واپس آئے اس طرح وہ ایک برس تک سعودی عرب میں قیام کرسکتا ہے۔

وزٹ ویزے کی اقسام

وزٹ  ویزے کی دو قسمیں ہیں ان میں پہلی قسم فیملی وزٹ کی ہے جس میں خونی رشتہ دار جن کا ذکر پہلے کیاجا چکا ہے۔ دوسری قسم تجارتی وزٹ ویزے کی ہے اس میں سعودی عرب میں قائم تجارتی ادارے مختلف نوعیت کے ماہرین کے لیے وزٹ ویزے جاری کرا سکتی ہیں۔ تاہم یہ کمپنی کے کام کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اور کتنی مدت کے لیے وزٹ ویزے جاری کرا رہے ہیں۔

وزٹ ویزے پر آنے والے کام کرسکتے ہیں ؟


سعودی عرب میں قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں مشکل میں پڑ سکتے ہیں: تصویر اے ایف پی

سعودی عرب کے قانون کے تحت وہ افراد جو فیملی وزٹ ویزے پر آتے ہیں وہ اجرت یا بغیر اجرت کسی بھی صورت میں کام نہیں کر سکتے۔
 فیملی وزٹ پر آنے والوں کے ویزوں پر یہ تحریر واضح طور پر درج ہوتی ہے کہ’امل ہذا کسی بھی صورت میں کام کا اہل نہیں۔‘ وزٹ ویزے پر آنے والے اگر کام کرتے ہوئے گرفتار ہوتے ہیں تو انہیں قانون شکنی پر قید اور جرمانے کی سزا کے علاوہ سعودی عرب کے لیے بلیک لسٹ بھی کر دیا جاتا ہے علاوہ ازیں ان کے سپانسر جن کی کفالت میں وہ سعودی عرب آئے ہوتے ہیں انہیں بھی قید و جرمانے کے علاوہ سعودی عرب کے لیے بلیک لسٹ کیاجاتا ہے۔

وزٹ ویزے کو اقامے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟


 فیملی وزٹ ویزے آئے ہوئے اجرت یا بغیر اجرت کسی بھی صورت میں کام نہیں کر سکتے

محکمہ امیگریشن و پاسپورٹ کے قوانین میں ایسی کوئی شق نہیں کہ وزٹ ویزے پر آنے والے کو  رہائشی پرمٹ ’ اقامہ‘جاری کیا جائے۔
تاہم سعودی عرب میں طرز حکمرانی شاہی ہے اس لیے ایوان شاہی یا وزیر داخلہ ہی اس امر کا مجاز ہوتا ہے کہ وہ اپنی صوابدید اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خصوصی احکامات کے تحت وزٹ ویزے پر آنے والے کو مقامی طور پر اقامہ جاری کردیں۔ 
ایوان شاہی یا وزیر داخلہ سے احکامات جاری ہونے کے بعد درخواست گزار کا معاملہ  محکمہ پاسپورٹ کے مرکزی کمپیوٹر میں ارسال کیاجاتا ہے جہاں درخواست گزار مقررہ فیس جوکہ دو ہزار ریال ہے جمع کرا کے اقامہ جاری کروا سکتا ہے۔
 واضح رہے کہ اس طرح کے معاملات بہت کم ہوتے ہیں مگر بعض مادہ پرست  ایجنٹ سادہ لوح افراد سے رقم لیکر فرار ہو جاتے ہیں جس سے ان افراد کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایجنٹ ان لوگوں کے پاسپورٹ بھی لیکر غائب ہوجاتے ہیں۔
 

شیئر: