'مل کر لڑنا پڑے گا،سڑکوں پر نکلنا پڑے گا'

    بلاول بھٹو زرداری نے پھرسوال کیا ہے یہ وہ آزاد پاکستان ہے جس کا قائد اعظم نے ہم سے وعدہ کیا تھا؟ ۔کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کے لئے ہم نے قربانیاں دیں؟ ۔اب ہمیں مل کر لڑنا پڑے گا، سڑکوں پر نکلنا پڑے گا ۔اسلام آباد اور کٹھ پتلی حکومت تک عوام کی آواز کو پہچانا پڑے گا ۔ 
 ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے نعرے لگائے نا منظور منظور نیا پاکستان نا منظور ،عوام دشمن بجٹ نا منظور، واپس دو واپس دو، قائد کا پاکستان واپس دو ، آزاد پاکستان واپس دو۔
 پیپلزپارٹی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے میں سلیکشن چل رہی ہے ۔آمروں سے مقابلہ کیا ،دہشت گردوں سے مقابلہ کیا ۔اب کٹھ پتلی سے بھی مقابلہ کریں گے۔ اگر ستر سال بعد بھی صاف اور شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے تو یہ کس قسم کی جمہوریت ہے، یہ کس قسم کی آزادی ہے۔ قبائلی علاقوں میں انتخابات کے دوران سیکشن 144 لگا دی گئی ہے۔ یہ کیسا الیکشن ہے، جہاں اپوزیشن کے کمپین کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ صرف پی ٹی آئی کو اجازت ہے۔ 

بلاول نے الزام لگایا کہ عمران خان نے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ۔ملک کی خود مختاری کا سواد کیا ۔ان کی شرائط مان کر عوام کی زندگی عذاب بنادی۔ صبح ڈالر اور بجلی کا ریٹ کچھ اور ہوتا ہے ،شام کو کچھ اور ہوتا ہے ۔بجٹ میں امیروں کے لئے ریلیف ہے ،غریبوں کا خون چوسا گیا۔ چوروں ِلٹیروں اور بدعنوانوں کے لئے ایمنٹسی اسکیم ہے ۔ غریب عوام کے لئے ٹیکسوں کا طوفان ہے۔ مہنگائی کی سونامی ہے ۔یہ کیسا نیا پاکستان ہے ۔ غریب کی زندگی مشکل،تاجر کا روبا تباہ ،پینشنرز دھکے کھا نے پر مجبور،کسان بدحال،مزدور بے بس ہے۔
بلاول کا کہنا تھا کہ یہ ظلم کی انتہا ہے ۔ وفاقی حکومت کی نالائقیوں سے صوبے دیوالیہ ہو رہے ہیں۔ سندھ ،پنجاب اور کے پی کے کو ان کے حصے سے کم پیسے مل رہے ہیں۔ کے پی کے کو40 ارب روپے کم مل رہے ہیں۔ کیا اس رقم سے اسکول اوراسپتال نہیں بن سکتے تھے۔ لوگوں کو روزگار نہیں مل سکتا تھا ۔ یہ آپ کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔
 چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اگر حق کے لیے آواز اٹھانا بغاوت ہے، اگر ظلم کے لیے آواز اٹھانا جرم ہے تو ہاں میں باغی ہوں، ہاں میں مجرم ہوں، ہم سب باغی ہیں، ہم سب مجرم ہیں۔ 
’ میں عوام کے معاشی حقوق کے تحفظ کیلئے نکلا ہوں،جمہوری حقوق کے تحفظ کے لئے نکلا ہوں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے نکلاہوں اس سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلا ہوں،

 بلاول نے یہ بھی دعوی کیا کہ دہشت گردوں کا سہولت کا رآج وفاقی کابینہ میں بیٹھا ہے۔ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔ دہشت گردوں کے ترجمان کا انٹرویو تو ٹی وی پر چل سکتا ہے لیکن سابق صدر زرداری کا انٹرویو نہیں چل سکتا جس شخص نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور وفاق کو لاحق خطرات دور کئے۔
’کیا ہمارا جرم یہ تھا کہ آصف زرداری نے ملک سنبھالا اور دہشت گردی کے خلاف پارلیمنٹ کو اکھٹا کیا اور اسے فوج کے شانہ بشانہ کھڑا کیا کیا ۔یہ جرم تھا کہ چین سے گوادر پورٹ کا معاہدہ کرکے سی پیک کی بنیاد رکھی۔ آج اس ملک میں سلیکٹڈ حکومت لا کر بٹھا دی گئی۔ اس نے ایک سال میں کیا کیا ہے،؟ ۔
 

شیئر: