’عورت کو تھپڑ مارنا محبت کی علامت؟‘: فلم ’کبیر سنگھ‘ کے سین پر تنازع

’کبیر سنگھ‘ کے ایک سین میں ہیرو کو ہیروئن کو تھپر مارتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
کیا تھپڑ مارنا محبت کی علامت ہے؟ یہ بحث حال ہی میں سوشل میڈیا پر اس وقت شروع ہوئی جب بالی وڈ کی نئی ریلیز ہونے والی فلم ’کبیر سنگھ‘ کے ڈائریکٹر کا انٹرویو منظر عام پر آیا۔
انٹرویو میں ڈائریکٹر سندیپ ریڈی ونگا نے فلم کے ایک سین میں ہیرو کا ہیروین کو تھپڑ مارنا ناصرف جائز قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ جو لوگ ایسا کرنے کو غلط سمجھتے ہیں، انہوں نے ’کبھی محبت کی ہی نہیں۔‘
’کبیر سنگھ‘ کے ایک سین میں ہیرو کو ہیروئن کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھایا گیا ہے اور اس سین پر فلم کے ڈائریکٹر سندیپ ریڈی ونگا کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔
صحافی اور فلم ناقد انوپما چوپڑا کے ساتھ انٹرویو کے دوران فلم کے ڈائریکٹر نے عورت سے بیزار اپنے مرکزی کردار کی جانب سے نبھائے گئے رول کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں انہیں ٹوئٹر پر صارفین کے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔


شاہد کپور کو اس فلم میں مغرور شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

واضح رہے کہ فلم میں شاہد کپور کو خود کو نقصان پہنچانے والے، مغرور شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کا نام کبیر ہے، جبکہ اداکارہ کیارا ادوانی نے ایک ظلم سہنے والی خاتون کا کردار ادا کیا ہے جس نام پریتی ہے اور وہ فلم میں ’کبیر‘ کی ساتھی ہیں۔
انٹرویو کے دوران فلم کے ڈائریکٹر نے انوپما چوپڑا کو بتایا کہ جو لوگ شاہد کپور اور کیارا ادوانی کے مرکزی کرداروں پر تنقید کر رہے ہیں ان کو ’کبھی محبت ہوئی ہی نہیں‘ یا ’انہوں نے یہ جذبہ کبھی ٹھیک سے محسوس ہی نہیں کیا‘۔
تھپڑ مارنے والے سین کے بارے میں ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ’اداکارہ نے اداکار کو کسی وجہ کے بغیر تھپڑ مارا۔ کم از کم کبیر کے پاس اسے تھپڑ مارنے کی وجہ تو تھی۔ اگر آپ اپنی ساتھی خاتون کو تھپڑ نہیں مار سکتے یا جہاں چاہیں اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے تو مجھے اس میں کوئی جذبہ نظر نہیں آتا۔‘
یہ انٹرویو شاہد کپور اور انوپما چوپڑا نے ٹوئٹر پر شئیر کیا جس کے بعد ان کو بھی صارفین کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
انڈیا میں بیڈمنٹن کی کھلاڑی گٹا جوالا کا کہنا تھا کہ فلم میں عورت پر ہاتھ اٹھانے کو فروغ دینا ایک غلط اقدام ہے۔ ’اس شخص کو محبت تکلیف کے بغیر دکھائے جانے کی ضرورت ہے۔‘

رادھیکا سلاسکار نام کی ایک اور صارف کا فلم کے ڈائریکٹر کے بارے میں کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری کی طرف سے ان کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔

ایمپروویبل نامی ہینڈل رکھنے والی ایک صارف نے ڈائریکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے یہ سب عورتوں کو غصہ دلانے کے لیے کہا ہے۔ صارف نے یہ بھی لکھا ہے کہ انہیں خوشی ہے سندیپ ریڈی جیسے لوگ منظر عام پر آرہے ہیں۔ 

امریکی ریاست میساچیوسٹس سے ڈیبراہ کپلان نام کی ایک صارف نے کہا کہ جب تک لوگ ایک دوسرے کو نہ ماریں تو محبت ثابت نہیں ہوتی، پدر شاہی سماج میں اس کا نام محبت ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ’ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوسروں کو تکلیف پہنچائیں، اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ دو لوگ ایک دوسرے کے لیے جو کر سکتے ہیں کریں اور ساتھ رہتے ہوئے ایک دوسرے کی آزادی کا بھی خیال کریں۔‘ 

 

شیئر: