خاتون اور کمسن بچی کی موت، مریم نواز کے ذمہ دار افسران کو برطرف کرنے کے احکامات
خاتون اور کمسن بچی کی موت، مریم نواز کے ذمہ دار افسران کو برطرف کرنے کے احکامات
جمعرات 29 جنوری 2026 21:05
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر خاتون اور ان کی کمسن بیٹی کی موت کے بعد کنسٹرکشن سائٹ کے منیجر اور دیگر افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ وزیراعلٰی نے دو افسران کو ملازمت سے برخواست کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
جمعرات کی شام لاہور میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے واقعے پر اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، واسا، ٹیپا، ایل ڈی اے، پولیس اور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے ٹیپا کے پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد حسین اور واسا کے افسر عثمان بابر کو نوکری سے برخواست کرنے جبکہ پراجیکٹ منیجر احمد نواز، عثمان یاسین، سیفٹی انچارج دانیال، اصغر سندھو اور دیگر ذمہ داران کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ان افسران کو نہ صرف فوری طور پر حراست میں لیا جائے بلکہ ان کے خلاف مجرمانہ غفلت برتنے پر مقدمات بھی درج کیے جائیں۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ مریم نواز نے چیف سیکریٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’یہ جو پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا زاہد حسین ہیں اور عثمان بابر واسا سے ہیں۔ ان دونوں کو آپ نوکری سے برخواست کریں۔ ہمیشہ کے لیے۔ ان کو دوبارہ کہیں نوکری نہیں ملنی چاہیے تاکہ ان کو پتا لگے کہ انہوں نے کتنی بڑی مجرمانہ غفلت کی ہے۔‘
اجلاس میں افسران کی بریفنگ کے بعد خطاب کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز کا لہجہ غیرمعمولی طور پر سخت رہا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ واقعہ قتل سے کم نہیں۔ ہر سطح پر مجرمانہ غفلت ہوئی ہے۔ ایک جگہ کے لیے دس، دس ادارے ہیں لیکن ذمہ دار کوئی بھی نہیں ہے؟‘ ان کا کہنا تھا کہ کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور، اسسٹنٹ کمشنر، ڈی جی ایل ڈی اے اور ایم ڈی واسا سب اس سانحے میں برابر کے ذمہ دار ہیں اور انہیں اس غفلت کی سزا ملنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے سوال اٹھایا کہ جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہاں نہ روشنی کا انتظام تھا اور نہ ہی مین ہول کو کسی عارضی کور یا حفاظتی رکاوٹ سے بند کیا گیا تھا۔ ان کے بقول 'پینافلیکس اور بینرز تو لگا دیے گئے کہ آگے کنسٹرکشن ہو رہی ہے لیکن اندھیرے میں کون کھڑا ہو کر پڑھتا ہے؟ وہاں ایک بلب بھی نہیں تھا۔ ایسی جگہ پر کسی قسم کی پارکنگ نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن وہاں باقاعدہ پارکنگ بنا کر پیسے لیے جاتے رہے۔ ٹریفک پولیس کہاں تھی؟ پولیس کہاں تھی؟ کسی کو معلوم ہی نہیں کہ یہ سب ہو رہا ہے؟‘
وزیراعلٰی مریم نواز نے افسران کو مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دیا۔ فائل فوٹو: اے پی پی
وزیراعلیٰ اسسٹنٹ کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’شہر کے اندر تعمیراتی جگہ کا دورہ نہیں کیا تو آپ کس چیز کے اسسٹنٹ کمشنر ہیں؟ خاتون نالے میں گر کر تین کلومیٹر دور بہہ کر چلی گئیں اور لاہور کی انتظامیہ کہتی ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ چیف سیکریٹری، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سب مجھے جواب دیں۔ ورثا کو تھانے میں بند کرنا بہت زیادتی تھی۔ متاثرہ خاندان کو ٹھیکیدار سے ایک کروڑ روپے دلوائے جائیں گے۔‘
وزیراعلیٰ مریم نواز کے مطابق خاتون مین ہول میں گرنے کے بعد نالے میں بہہ کر تقریباً تین کلومیٹر دور جا پہنچی لیکن اس دوران لاہور کی انتظامیہ یہ کہتی رہی کہ 'کوئی گرا ہی نہیں۔' انہوں نے کہا 'اگر یہ میری یا آپ میں سے کسی کی بیٹی ہوتی تو پھر میں پوچھتی۔ پورا سسٹم نہ ہل کر رہ جاتا؟‘
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’چیف سیکرٹری صاحب، آج شاید آپ کو اندازہ ہو گیا ہو کہ میں اس معاملے پر اتنی سختی کیوں برتتی ہوں۔ پنجاب کے تمام اضلاع کی میٹنگز میں ہر چیز پر میرا زور ہوتا ہے۔ مین ہول میں کبھی امیر نہیں گرتا۔ ہمیشہ وہ غریب لوگ گرتے ہیں جو سڑک پر چلتے ہیں۔‘
کھلے مین ہول کے گٹر میں گر کر موت کا شکار ہونے والی خاتون اور اُن کی شیرخوار بیٹی کی فائل فوٹو: سکرین گریب
دوسری جانب غلط معلومات فراہم کرنے کے بعد سے خاموش وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس افسوسناک واقعے پر دلی طور پر دکھی اور شرمندہ ہیں۔ ان کے مطابق انتظامیہ نے ابتدا غلط حقائق شیئر کیے گئے جو انہیں بھی موصول ہوئے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ’میں ذاتی طور پر بھی بہت شرمندہ اور معافی کی طلبگار ہوں۔ استعفیٰ دینے کے لیے بھی تیار تھی لیکن وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں میری غلطی نہیں۔‘
جمعرات کی شب ریسکیو 1122 کو اطلاع موصول ہوئی کہ بھاٹی گیٹ کے قریب ایک کھلے مین ہول میں ماں اور اس کی دس ماہ کی بیٹی گر گئی ہیں جس کے بعد مختلف محکموں نے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا۔ خاتون کی لاش رات کو برآمد ہوئی جبکہ بچی کی لاش 17 گھنٹے تلاش کے بعد سگیاں کے علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔