سعودی عرب: شاہ فیصل کی زندگی پر مبنی فلم ’بورن اے کنگ‘ کی نمائش

شاہ فیصل سعودی عرب کے تیسرے فرمانروا تھے۔ فوٹو: واس
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے سینما گھروں میں ستمبر کے دوران عالمی فلم ’بورن اے کنگ‘‘ کی نمائش ہوگی۔ ’بورن اے کنگ‘ 1919 میں شاہ فیصل کے دورہ برطانیہ  پر مبنی ہے۔
فلم میں  شاہ فیصل کی زندگی کے اہم پہلوئوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ 
ریاض میں ’بورن اے کنگ‘ کی نمائش پر کنگ فیصل سینٹر برائے اسلامی ریسرچ و اسٹڈیز کے سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے خوشی کا اظہار کیا اور فلم پروڈیوسر اور اس میں کام کرنے والے عملے کا شکریہ ادا کیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی واس کے مطابق شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ ’مدت سے خواہش تھی کہ کوئی ایسا فنی کام کیا جائے جو شاہ فیصل جیسے بڑے قائد کے لائق ہو۔ ’بورن اے کنگ‘ نئی نسل کو شاہ فیصل کے کارناموں سے آگاہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔‘
شاہ فیصل ان منفرد شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ملک کا نام روشن کیا بلکہ اسلامی دنیا میں آج بھی انہیں یاد کیا جاتا ہے۔

’بورن اے کنگ‘ 1919 میں شاہ فیصل کے دورہ برطانیہ  پر مبنی ہے۔ فوٹو: واس

دوسری طرف ہسپانوی فلم پروڈیوسر اینڈرس گومیز نے کہا ہے کہ وہ اس فلم سے کافی مطمئن ہیں۔ ’اس منصوبے پر کام کرنے کی خواہش کافی عرصے سے تھی۔ 2015ء میں شہزادہ ترکی الفیصل سے ملاقات کے بعد یہ خواب حقیقت میں بدل گیا۔‘
اس فلم میں عالمی شہرت یافتہ اداکاروں کے علاوہ بین الاقوامی فلمیں بنانے والے فنی عملے نے حصہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ ’بورن اے کنگ‘ فلم سعودی عرب، انگلینڈ اور سپین کے مشترکہ تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ فلم کی عکس بندی ریاض اور لندن میں ہوئی ہے۔  فلم کی کہانی سعودی مصنف بدر السماری نے لکھی ہے۔  ان کے ساتھ برطانوی مصنفین ری لوریگا اور ہینری فرٹز نے تعاون کیا ہے۔

ستمبر میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے ذریعے نئی نسل کو شاہ فیصل سے متعارف کرایا جائے گا۔ فوٹو: واس

 غیرملکی اداکاروں کے علاوہ شاہ فیصل کے بچپن کا کردار ایک سعودی بچے نے ادا کیا ہے۔ فلم کی کاسٹ میں 80 سعودی نوجوانوں کے علاوہ عبداللہ علی نامی ایک انڈین اداکار بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ شاہ فیصل سعودی عرب کے تیسرے فرمانروا تھے۔ عالم اسلام میں آج بھی ان کا نام عزت سے لیا جاتا ہے۔  پاکستان سے انہیں خصوصی لگاؤ تھا۔ انہی کی نسبت سے اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد ہے۔ سیاست کے میدان میں ان کے جرأت مندانہ فیصلے تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں۔ انہیں 25 مارچ 1975 کو قتل کر دیا گیا تھا۔

شیئر: