دوحہ مذاکرات: طالبان اور افغان گروپوں کا ملک میں تشدد کم کرنے کا عہد

طالبان نے بھی مذاکرات میں ہونے والی ’پیش رفت‘ پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
جرمنی کے نما ئندہ خصوصی برائے پاکستان اور افغانستان مارکس پوٹز نے کہا ہے کہ طالبان اور حریف افغان گروپوں نے افغانستان میں تشدد کم کرنے کا عہد کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دوحہ میں جرمنی اور قطر کی مشترکہ میزبانی میں طالبان اور افغان گروپوں کے درمیان ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
جرمنی کے نمائندہ برائے افغانستان مارکس پوٹز نے کہا ہے کہ ’طالبان اور افغان گروپوں کی جانب سے اپیل اور تشدد کم کرنے کا عہد مذاکرات کے احتتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم حصہ ہے۔‘
مشترکہ اعلامیے میں افغانستان میں قیام امن کے لیے روڈ میپ طے کیا گیا ہے جس کی بنیاد امن عمل کی شروعات، بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی اور خطے کی قوتوں کی جانب سے افغانستان میں عدم مداخلت  ہوگی۔

دوحہ میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات میں شریک خواتین مندوب فوٹو اے ایف پی

مشترکہ اعلامیے میں خواتین کے سیاسی، سماجی، معاشی، اور ثقافتی حقوق کی اسلامی اقدار کے اندر رہتے ہوئے یقینی بنانے کا عہد بھی شامل ہے۔ مذاکرات میں شریک خاتون مندوب اور افغان وومن نیٹ ورک کی ڈائریکٹر میری اکرامی نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ معاہدہ نہیں بلکہ یہ مذاکرات شروع کرنے کی بنیاد ہے۔ ’اچھی بات یہ ہے کہ فریقین نے اس سے اتفاق کیا۔‘
طالبان کے نمائندے امیر خان متقی نے 700 الفاظ پر مشتمل اعلامیہ پشتو میں پڑھ کر سنایا جبکہ افغان ہائی پیس کونسل کی نائب سربراہ حبیبہ سرابی نے اس کا دری ترجمہ سنایا۔   
خیال رہے کہ کچھ ماہ پہلے بھی افغانوں کے درمیان اسی قسم کی ملاقات ماسکو میں بھی ہو چکی ہے۔
طالبان اور افغان دھڑوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دوبارہ آغاز آج (منگل) کو دوحہ میں ہوگا۔ مذاکرات میں دونوں فریقین کی نظریں 18 سال سے جاری طویل لڑائی کے خاتمے پر ہوں گی۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ رواں برس ستمبر میں ہونے والے افغانستان کے صدارتی انتخابات سے پہلے طالبان کے ساتھ سیاسی معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کا انخلا ممکن ہو۔
افغان رہنماؤں اور طالبان کے درمیان مذاکرات دوحہ ایک لگژری ہوٹل میں ہوئے، جب مذاکرات کے اختتام پر مشرکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا گیا تو ہوٹل کا بڑا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

دوحا کے ہوٹل میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات کا منظر۔ فوٹو اے ایف پی 

قطر کے نمائندہ خصوصی برائے انسداد دہشت گردی متلق الا قحتانی کا کہنا تھا کہ اختلافات (افغان گروپوں کے درمیان) بہت ہی کم رہ گئے  ہیں۔ دونوں جانب سے بہت ذیادہ سنجیدگی کے مظاہرے پر ہم حیران ہے اور وہ اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘
خیال رہے امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے ہفتے کو کہا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات اب تک ہونے والے مذاکرات میں سے سب سے زیادہ بارآور ثابت ہوئے ہیں۔
پیر کو دوحہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ’ہم ایک مستحکم افغانستان چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے افغان رہنماؤں اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کو بڑی کامیابی قرار دیا۔ دوسری طرف طالبان نے بھی مذاکرات میں ہونے والی ’پیش رفت‘ پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ نے قطر میں افغانوں کے مابین مذاکرات میں براہ راست حصہ نہیں لیا۔ ان دوروزہ مذاکرات میں افغانستان کے سیاسی رہنما،حکومتی اہلکار اور کم از کم چھ خواتین نے حصہ لیا۔
افغان رہنماؤں نے اس مزاکرات میں ’ذاتی حیثیت‘ میں حصہ لیا۔ صدر اشرف غنی کی حکومت کو طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے بھی باہر رکھا گیا ہے۔

دوحا میں ہونے والے طالبان اور افغان گروپوں کے درمیاں ہونے والے مذاکرات میں شریک ایک خاتون مندوب۔ فوٹو اے ایف پی

خیال رہے کہ افغانوں کے مابین ہونے والے مزاکرات کا یہ تیسرا دور تھا۔ اس سے پہلے روس کے دارالحکومت ماسکو میں مذاکرات کے دو ادوار ہو چکے ہیں۔
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کی جانب سے افغان سرزمین پر جہادی گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہ دینا طالبان کے ساتھ متوقع امریکی معاہدے کے دو اہم ستون ہوں گے۔
تاہم طالبان کے ساتھ پاور شیئرنگ، خطے کے ممالک خصوصاً پاکستان اور انڈیا کے کردار اور صدر اشرف غنی کی حکومت کے مستقبل جیسے معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔

شیئر: