Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا پاکستان کو ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟ عامر خاکوانی کا کالم

کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں یہی سوال گردش کر رہا ہے کہ پاکستان کو ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے یا پھر اپنی ٹیم ورلڈ کپ کے لیے بھیج دی جائے۔
اس پورے معاملے کے دو حصے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بنگلہ دیش کا موقف درست اور اصولی ہے، ان کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ آئی سی سی جس پر انڈیا کا بہت کنٹرول اور ایک طرح سے تسلط ہوچکا ہے، اس نے بنگلہ دیش کو اکاموڈیٹ کرنے کی معمولی سی کوشش بھی نہیں کی۔ درحقیقت آئی سی سی کے صدر جے شاہ نے بڑا تحقیر آمیز رویہ اپنایا کہ بنگلہ دیش آتا ہے تو آئے، ورنہ ہم اس کی جگہ دوسری ٹیم کو شامل کر لیں گے اور پھر ایسا کر بھی لیا گیا۔ یہ باقاعدہ توہین اور ذلت آمیز رویہ تھا۔
یہ پورا بحران بنگلہ دیشی کرکٹرز کے خلاف خواہ مخواہ کا طوفان اٹھانے سے پیدا ہوا۔ دو ماہ قبل معروف بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمن میرٹ پر آئی پی ایل میں شامل ہوئے، وہ پہلے بھی کئی بار کھیل چکے ہیں شاہ رخ خان کی ٹیم کلکتہ نائٹ رائیڈر نے اسے خاصے مہنگے داموں خریدا مگر پھر جب بی جے پی کے شدت پسند عناصر نے بنگلہ دیشی کھلاڑی کے خلاف مہم چلانی شروع کی تو انڈین کرکٹ بورڈ یا حکومت نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ بی جے پی رہنماؤں اور انڈین میڈیا نے بلاجواز مستفیض الرحمن کو نشانہ بنایا۔ ان میں سے کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ کرکٹرز تو غیر سیاسی لوگ اور پروفیشنل کھلاڑی ہیں۔ اگر بنگلہ دیش کی مقامی سیاست میں بھارت مخالف عنصر نمایاں ہوگیا ہے تو اس میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کا کیا قصور ؟
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کرکٹ بورڈ اور آئی پی ایل مینجمنٹ مستفیض الرحمن کو مکمل تحفظ اور سکیورٹی فراہم کرتے، اسے اعتماد دیا جاتا۔ اس کے بجائے کرکٹ بورڈ نے کلکتہ نائٹ رائیڈرز کو کہا کہ بنگلہ دیشی کھلاڑی کو فارغ کر دیں۔ یہ ہر اعتبار سے غلط تھا۔ آئی پی ایل ان کا آئیکون پروجیکٹ ہے جس سے وہ اربوں روپے کماتے ہیں، آئی پی ایل کی کسی ٹیم میں ایک بڑے غیرملکی کھلاڑی کو شامل کر کے یوں بلاجواز اسے نکال باہر پھینکنا خاصی افسوسناک بلکہ شرمناک حرکت ہے۔ انڈیا میں مگر ایسا ہی کیا گیا۔
بنگلہ دیش کا اس پر احتجاج کرنا بنتا تھا۔ جب حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما بنگلہ دیش کی مقامی سیاست کی بنا پر بنگلہ دیشی کھلاڑی کے خلاف پروپیگنڈہ کریں اور اسے دھمکائیں تو پھر ظاہر ہے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھی خطرات لاحق ہوگئے۔ ایسے میں بنگلہ دیش کا یہ مطالبہ جائز اور درست تھا کہ ان کے میچز سری لنکا شفٹ کر دیے جائیں۔

کرکٹ فینز پاکستانی ٹیم کو ٹی20 میں دیکھنا چاہتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اس کے قوی امکانات ہیں کہ آئی سی سی کی صدارت اس وقت انڈیا کے پاس نہ ہوتی، انگلینڈ آسٹریلیا وغیرہ میں سے کوئی صدر ہوتا تو ممکن ہے وہ بنگلہ دیش کو اکاموڈیٹ کر دیتے۔ آئی سی سی کے موجودہ صدر جے شاہ دراصل ایک ممتاز بی جے پی لیڈر کے صاحبزادے اور ایک خاص مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں۔
انہوں نے بنگلہ دیش کو معمولی سا بھی اکاموڈیٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اگر وہ بنگلہ دیش کا گروپ تبدیل نہیں کر سکتے تھے تو کم از کم بنگلہ دیشی ٹیم کے میچ ایسی جگہوں پر رکھے جا سکتے تھے جہاں کراؤڈ مخالف نہ ہو۔ بنگلہ دیش کے پہلے تین میچز کولکتہ میں رکھے گئے تھےجبکہ ان کا چوتھا میچ ممبئی میں ہونا تھا۔ ممبئی کا کراؤڈ خاصا پرو بی جے پی اور پرو شیو سنہا ہونے کی شہرت رکھتا ہے، پاکستان کے خلاف بھی ماضی میں وہاں مسائل آتے رہے ہیں۔
اگر آئی سی سی بنگلہ دیش کو منانے کی تھوڑی بہت کوشش کرتا، اس کے ممبئی والے میچ کا وینیو تبدیل کر دیتا تو عین ممکن ہے بنگلہ دیش اپنی ٹیم ورلڈ کپ میں بھیج دیتا۔ بھارت کے دباؤ پر آئی سی سی کے اکھڑ اور کھردرے رویے اور دوہرے معیار نے بنگلہ دیش کے پاس کوئی اور آپشن ہی نہیں چھوڑی۔ انہیں ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا پڑا اور یوں ایک ناخوشگوار روایت نے جنم لیا۔
پاکستان کا کردار اس حوالے سے مثبت رہا۔ پاکستان نے بنگلہ دیشی مطالبے کی حمایت کی۔ اس لیے کہ پاکستان میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں انڈین کرکٹ ٹیم نہیں آئی تھی، انہوں نے عذر بنایا کہ انہیں حکومت کی جانب سے اجازت نہیں ملی۔ آئی سی سی کا ایک اصول ہے کہ اگر کسی ممبر ملک کی حکومت کوئی ایسا فیصلہ کرے تب وہ اسے تسلیم کرتی ہے اور پھر کرکٹ ٹیم کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ انڈیا کے ساتھ ایسا ہی ہوا، اس کا مطالبہ مان لیا گیا، اس نے اپنے میچز عرب امارات میں کھیلے تھے۔ تب پاکستانی کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی نے یہ معاہدہ کرا لیا تھا کہ ہم بھی انڈیا ورلڈ کپ کھیلنے نہیں جائیں گے اور اپنے میچز سری لنکا کھیلیں گے۔ اب ویسا ہی ہو رہا ہے۔ پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا تو وہ میچ بھی سری لنکا شفٹ ہوجائے گا اور فائنل کھیلنے کی صورت میں فائنل بھی کولمبو، سری لنکا میں ہوگا۔

2024 میں جے شاہ کو آئی سی سی کا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

 پاکستان کو خود چونکہ یہ سہولت ملی تو اس کا بنگلہ دیش کو سپورٹ کرنا بنتا تھا، دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار مراسم قائم ہونا ایک اضافی فیکٹر بن گیا۔
جب بنگلہ دیش کے انڈیا نہ جانے اور سری لنکا متبادل انتظام کرنے کے حوالے سے آئی سی سی کے ممبرز ممالک میں ووٹنگ ہوئی تو پاکستان نے بنگلہ دیش کے حق میں ووٹ دیا۔ بدقسمتی سے باقی تمام ممبرز ممالک نے بنگلہ دیش کے خلاف ووٹ دیا کہ عین وقت پر یہ تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ ان کا اعتراض یہ بھی تھا کہ اس طرح تو آئندہ کے عالمی ٹورنامنٹس میں بھی ٹیمیں اعتراض کر کے اپنے میچز بدلوانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
پاکستان نے واضح طور پر یہ نہیں کہا تھا، البتہ ہلکا سا اشارہ ضرور دیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کیا گیا تو ہم بھی بائیکاٹ پر غور کر سکتے ہیں۔
اب سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے تمام میچز سری لنکا ہی میں ارینج کیے گئےہیں، سپر ایٹ کے میچز بھی یہ وہیں کھیلے گا، اسے انڈیا جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس لیے اس کا بائیکاٹ کرنا بنتا نہیں۔ پاکستان کے پاس بائیکاٹ کرنے کا ٹھوس عذر بھی موجود نہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف فیصلہ آئی سی سی کے فل ممبرز کے بورڈ نے کیا اور نوے فیصد کے قریب ووٹ بنگلہ دیش کے خلاف گئے۔
یہ فیصلہ صرف انڈیا کا نہیں ہے۔ پاکستان نے اگر بائیکاٹ کیا تو شاید پاکستان پر بھاری جرمانہ، کچھ عرصےکی پابندی وغیرہ بھی لگ سکتی ہے۔ آئی سی سی کہہ سکتی ہے کہ پاکستان کی وجہ سے ان کے براڈ کاسٹر رائٹس متاثر ہوئے اور جو مالی نقصان ہوا، اس کی تلافی پاکستانی کرکٹ بورڈ کرے۔ ویسے بھی ورلڈ کپ کھیلنے پر پاکستانی کرکٹ بورڈ کو اچھی خاصی رقم آئی سی سی سے ملے گی، کہا جا رہا ہے کہ یہ تیس چالیس ملین ڈالر کے قریب ہوگی۔

مستفیض الرحمن کو آئی پی ایل سے نکالنے کے لیے کلکتہ نائٹ رائیڈر پر دباؤ تھا (فوٹو: اے پی)

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ایک ملاقات ہو چکی ہے۔ حیران کن طور پر فوری فیصلے کے بجائے یہ کہا گیا کہ تمام آپشنز کھلی رکھی جائیں اور حتمی فیصلہ جمعہ یا پیر کو کریں گے۔ اس کی وجہ سمجھ نہیں آئی ۔
کیا حکومت پاکستان اس حوالے سے بنگلہ دیش سے کوئی بات چیت کرنا چاہتی ہے یا پھر یہ ہوسکتا ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ کھیلنے کا فیصلہ کر چکا ہو، مگر دانستہ طور پر باقاعدہ فیصلہ تین چار دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا تاکہ میڈیا کی ہائپ کچھ کم ہوجائے۔ اس دوران پاکستان آسٹریلیا ٹی20 سیریز بھی شروع ہو جائے گی۔ پہلا میچ ہونے سے عوام میں کھیل کا ٹمپو بننے لگے گا۔ ایسے میں پھر اگر ورلڈ کپ کھیلنے کا اعلان ہوا تو شاید کوئی اعتراض نہ کرے۔
بعض اطلاعات کے مطابق یہ تجویز آئی ہے کہ پاکستان احتجاج کے تحت میچز کھیلے، بازو پر سیاہ پٹیاں باندھ کر یا پھر یہ بھی کہ پاکستان ورلڈ کپ کھیلنے جائے مگر 15 فروری کو انڈیا کے ساتھ اپنا شیڈول میچ نہ کھیلے، بائیکاٹ کر دے۔ اس سے انڈین براڈ کاسٹرز کو خاصا نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ پاکستان میچ نہ کھیلا تو واک اوور تصور ہوگا، دو پوائنٹس کاٹ لیے جائیں گے۔ پاکستان کا پول مگر ایسا ہے کہ دیگر ٹیمیں نسبتاً کمزور ہیں۔

دنیا بھر میں کرکٹ شائقین پاکستان انڈیا میچ کا انتظار کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کا پہلا میچ نیدرلینڈ سے 7 فروری اور دوسرا امریکہ سے 10 فروری کو ہے۔اگر پاکستان نے دونوں میچز جیت لیے، پھر 15 فروری کو تیسرا میچ انڈیا سے نہ بھی کھیلا گیا تو زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ آخری میچ ویسے بھی ایک اور کمزور ٹیم نیمبیا سے ہے۔ یوں پاکستان انڈیا سے نہ کھیل کر بھی سپر ایٹ مرحلے میں جا سکتا ہے۔ البتہ یہ سوچ لینا چاہیے کہ میچز کا بائیکاٹ کرنا ایک منفی عمل ہی ہے، اس کے بجائے احتجاج کرتے ہوئے یعنی سیاہ پٹیاں بازو پر باندھ کر کھیلنا زیادہ بہتر رہے گا۔ بعد میں اگر میچ جیت گئے تو اس جیت کو بنگلہ دیش کے نام کر دینے جیسا کچھ علامتی کام بھی ہوسکتا ہے۔
بظاہر امکانات یہی لگ رہے ہیں کہ پاکستان زبانی یا عملی احتجاج کے ساتھ ورلڈ کپ کھیلے گا، ہمارے نزدیک بھی یہی درست فیصلہ ہوگا۔ اگر پاکستان نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تو پھر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ فیصلہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی ریاست کے مابین نئی نوعیت کی سٹریٹیجک پارٹنرشپ ہے۔ اگر فیصلہ کرکٹ بورڈ یا سول حکومت نے کیا تو پھر پاکستان ورلڈ کپ میں شریک ہوگا۔ اگر فیصلہ ریاست نے کیا تب کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
کرکٹ لورز کی یہی خواہش اور دعا ہوگی کہ کھیل میں سیاست کا رنگ نہ آئے اور اچھی بھرپور کرکٹ دیکھنے کو ملے۔

شیئر: