آئس لینڈ کرکٹ نے کہا کہ ’بظاہر پاکستان دو فروری تک یہ حتمی فیصلہ نہیں کرے گا کہ وہ ٹی20 ورلڈ کپ میں اپنی جگہ لے گا یا نہیں۔ یہ ہماری ٹیم کے ساتھ انتہائی چالاکی اور ناانصافی ہے، کیونکہ بہترین کارکردگی کے لیے ہمیں واضح صورتحال اور بھرپور تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویسے بھی ہمارے کپتان ایک پروفیشنل بیکر ہیں۔‘
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس پر پاکستانی صارفین کی جانب سے ردِعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔
جنید ظہیر نے جواب میں لکھا کہ ’پاکستان کا مذاق اڑانے سے آئس لینڈ کی ٹی20 ورلڈ کپ سے غیر موجودگی دور نہیں ہو جائے گی۔ کرکٹ رنز اور وکٹوں سے کھیلی جاتی ہے، ٹوئٹس سے نہیں۔‘
عبدالرحمان نے کہا ’یہ بات کون کہہ رہا ہے، ذرا دیکھو۔ پی سی بی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جھانکتے رہیں، اپڈیٹس ملتی رہیں گی، فکر کی کوئی بات نہیں۔‘
شاہد صدیقی نے لکھا ’یوگنڈا آپ سے پہلے تیاری کر رہا ہے۔ آپ کے پاس صرف اسی صورت موقع ہے اگر یوگنڈا پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں بائیکاٹ کر دے۔ اس لیے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کراس کیے رکھو۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’آپ کا سوشل میڈیا ہینڈلر ٹیلنٹ میں اوور ٹائم کا کر رہا ہے، اس کی تو باقاعدہ تنخواہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘
آئس لینڈ کی کرکٹ ٹیم سوشل میڈیا پر طنزیہ اور مزاحیہ پوسٹس کے باعث اکثر خبروں میں رہتی ہے اور آج بھی اس پوسٹ کے نیچے انڈینز اور پاکستانیوں کی بھرمار ہے جو ان کو اپنے طریقے سے جواب دے رہے ہیں۔
آئس لینڈ کے متعدد کھلاڑی مکمل طور پر فل ٹائم کرکٹ میں شامل نہیں ہیں اور وہ مختلف اقسام کی نوکریاں کرتے ہیں جس پر آئس لینڈ کرکٹ نے کہا کہ ہمارا کپتان پروفیشنل بیکر ہے، مطلب کرکٹ اس کا مستقبل شعبہ نہیں اس لیے انہیں تیاری کی ضرورت ہے۔
واضح رہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کے مطابق پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں شرکت سے متعلق اپنا فیصلہ جمعہ یا آئندہ پیر تک مؤخر کر دیا تھا۔
محسن نقوی نے پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جو اس بیان کے دو دن بعد ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی شرکت کا فیصلہ حکومتِ پاکستان کرے گی۔
محسن نقوی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے ایک مفید ملاقات ہوئی۔ انہیں آئی سی سی سے متعلق معاملے پر بریف کیا، جس پر انہوں نے ہدایت دی کہ تمام آپشنز کھلے رکھتے ہوئے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ جمعہ یا آئندہ پیر کو کیا جائے گا۔‘
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی (فوٹو: ایکس، محسن نقوی)
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ کا مکمل بائیکاٹ ہی وہ واحد آپشن نہیں جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ غور کر رہا ہے۔ اس حوالے سے یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ پاکستان بطور ایک محدود اور مخصوص احتجاج 15 فروری کو کولمبو میں انڈیا کے خلاف اپنا میچ کھیلنے سے انکار کر سکتا ہے۔
تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ محسن نقوی کے بیان کے ایک دن بعد پی سی بی نے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے پاکستان سکواڈ کا اعلان بھی کر دیا تھا، جبکہ چیف سلیکٹر عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان کی شرکت کی نوعیت سے متعلق فیصلہ حکومت کرے گی۔
اگر محسن نقوی کے بیان کے مطابق پاکستان اگلے ہفتے تک فیصلہ مؤخر کرتا ہے تو یہ غیر معمولی حد تک تاخیر ہو گی۔
پاکستان کا پہلا میچ ٹورنامنٹ کا افتتاحی مقابلہ ہے، جو سات فروری کو کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف کھیلا جائے گا، یعنی پی سی بی کے ممکنہ فیصلے کے صرف چار دن بعد۔
پاکستان کی ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوئی جب محسن نقوی نے آئی سی سی کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی جس کے تحت بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا، کیونکہ بنگلہ دیش نے انڈیا کا سفر کرنے سے انکار کیا تھا اور متبادل وینیو کا مطالبہ کیا تھا۔ طویل تعطل کے بعد آئی سی سی نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔
اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے محسن نقوی نے آئی سی سی پر انڈیا کے حق میں دہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا، بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والے سلوک کو ناانصافی قرار دیا اور پاکستان کی اپنی شرکت پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے انڈیا کے بجائے سری لنکا میں میچز منعقد کرنے کا کہا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
اگرچہ پاکستان پورے ٹورنامنٹ کے دوران انڈیا نہیں جائے گا اور اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، تاہم اس کے باوجود پاکستان نے بنگلہ دیش کے لیے بھی یہی سہولت دیے جانے کی بھرپور حمایت کی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے آئی سی سی اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ واحد بورڈ تھا جس نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مؤقف کی حمایت کی۔
ٹی20 ورلڈ کپ انڈیا اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں ہو رہا ہے، تاہم بنگلہ دیش کے تمام میچز انڈیا میں شیڈول کیے گئے تھے۔
بنگلہ دیش نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اب انڈیا میں کھیلنا محفوظ نہیں رہا۔ یہ خدشات اس وقت سامنے آئے جب 3 جنوری کو انڈین کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 کے سکواڈ سے نکال دیا تھا۔
اگرچہ اس فیصلے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم یہ اقدام انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان بگڑتے سیاسی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
4 جنوری کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے حکومت سے مشاورت کے بعد آئی سی سی کو خط لکھا کہ قومی ٹیم سکیورٹی خدشات کے باعث ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے انڈیا کا سفر نہیں کرے گی، اور بعد کی تمام بات چیت میں اسی مؤقف پر قائم رہی۔