’برقینی میں نہانے کا فائدہ کیا، اتنی ہی باحیا ہیں تو گھر بیٹھیں‘

لبنانی فنکارہ نے سوئمنگ پولز اور ساحل پر با حجاب خواتین کے داخلے پرعائد پابندی پر شدید تنقید کی ہے۔
معروف لبنانی فنکارہ امل حجازی نے بعض سوئمنگ پولز اور ساحل پر با حجاب خواتین کے داخلے پر عائد پابندی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کیا یہ پابندی تعصب پر مبنی نہیں؟‘
امل حجازی نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر ساحل پر لگے بورڈ جس میں شرعی لباس پہننے والی خواتین کا داخلہ منع ہے کہ سائن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس قسم کے انتباہی بورڈز مغرب میں بعض جانور وں کے لیے لگائے جاتے ہیں جن میں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ’انکا یہاں داخلہ منع ہے۔‘

مزمز نیوز ویب سائٹ نے لبنانی گلوکارہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’جب سے امل نے حجاب پہننا شروع کیا ساحلوں پر مکمل لباس پہننے پر پابندی لگ گئی۔‘
 واضح رہے کہ لبنانی گلوکارہ نے نہ صرف مکمل حجاب شروع کر دیا ہے، بلکہ اسلامی نغمے بھی ریکارڈ کروا رہی ہیں۔
 امل حجازی کی جانب سے مخصوص ’سوئمنگ کوسٹیوم‘ کے خلاف مہم کے سوشل میڈیا پر چرچے ہیں، جس میں امل نے لوگوں سے سوال کیا ’آپکی کیا رائے ہے؟ یہ پابندی تعصب پرمبنی نہیں؟‘
 ایک اور ٹویٹ میں امل حجازی نے کہا ’کیا بردبار اور باحیاء لباس پہننا اس دور میں مشکل امر بن گیا ہے۔‘
امل حجازی نے ٹوئٹر پر #سمندر کے عنوان سے سب کےلیے ٹرینڈ شروع کیا جس پر لوگوں نے اسکی حمایت میں بہت کچھ تحریر کیا ہے۔
اکثریت ٹوئٹر صارفین  کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی غلط اور قابل مذمت امر ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، اس طرح تعصب کی ہوا چلنے کا اندیشہ ہے۔

 امل حجازی کی جانب سے شروع کی گئی مخصوص ’سوئمنگ کوسٹیوم‘ کے خلاف مہم کو سوشل میڈیا پر پذیرائی مل رہی ہے۔

 ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’شکر ہے کہ ہمارے یہاں الجیریا میں ایسی پابندی نہیں، یہاں تک کہ برقع پہن کر بھی مکمل آزادی سے سمندر میں نہا سکتے ہیں۔‘
ٹوئٹر صارف عمرالجمیلی نے کہا کہ ’ہمیں مغربی تہذیب اور جمہوریت کی قیمت چکانی ہے۔‘
ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ ’برقینی پہن کر نہانے کا فائدہ کیا ہے، اگر اتنی ہی باحیا ہیں تو سب کے سامنے آنے کی کیا ضرورت، آرام سے گھر میں بیٹھیں۔‘ 
واضح رہے کہ فرانس میں اکثر سوئمنگ پولز میں خواتین کو ’برقینی‘ پہن کر نہانے پر پابندی عائد کی گئی ہے جس پر اکثر خواتین نے احتجاج کیا اور اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے برقینی پہن کر ساحل پر گئیں۔ 

شیئر: