’ہیرو کی طرح کمایا،درویش کی طرح لٹایا‘

سر گنگا رام کی سمادھی (فوٹو:وکی پیڈیا)
’خہ مہ کوہ، بد نشتہ‘ یعنی بھلا مت کرو، بُرا نہیں بھگتنا پڑے گا۔ ہے تو یہ پشتو کا مشہور محاورہ لیکن کچھ منفی سا تاثر رکھتا ہے کہ بھلا تو بھلا ہوتا ہے اس کے بطن سے برا کیسے پھوٹ سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں یہ اور بات کہ بھلا کرنے والے ایسی باتوں سے ماورا ’صلے کی تمنا نہ ستائش کی پرواہ‘ کا پیکرہوتے ہیں۔
یہ کہانی ہے ایک ایسی عہد ساز شخصیت کی جنہیں پنجاب خصوصاً لاہور کا معمار کہا جائے توغلط نہ ہو گا۔ یہ کتھا آپ کو کچھ مقامات پر یقیناً مسحور کرے گی لیکن بہرحال جھنجھوڑے جانے کے لیے بھی تیار رہیے گا۔
انیس سو سینتالیس کے اگست کا اوائل ہے، جدوجہد آزادی کی نیّا پار لگنے کو ہے، ہندو مسلم فسادات زوروں پر ہیں۔ مال روڈ پر بپھرے لوگوں کا جلوس نکلا ہے۔ چند سال قبل انگریز حکومت کی جانب سے نصب کیا گیا ایک مجسمہ ان کے غضب کا نشانہ بنتا ہے۔ چہرے پہ تارکول مل دی جاتی ہے، گلے میں جوتوں کا ہار ڈالا جاتا ہے۔ پھر پولیس آتی ہے۔ بھگدڑ مچتی ہے کئی لوگ زخمی ہوتے ہیں جن کی جان قریبی سر گنگا رام ہسپتال میں پہنچائے جانے کی وجہ سے بچتی ہے۔ جس مجسمے کو ڈھانے کی کوشش ہوئی وہ سر گنگا رام کا تھا۔
ایسے ہی ستم کی ایک اور قسط انیس سو بانوے میں بابری مسجد کے واقعہ کے بعد چلی اور راوی کنارے بنی ایک سمادھی پر حملہ کر کے ڈھا دیا گیا۔ جی ہاں وہ سمادھی بھی سر گنگا رام کی تھی۔ جو بعدازاں پھر سے تعمیر کرائی گئی۔

سر گنگا رام نے لاہور میں موجود عجائب گھر کی بنیاد رکھی۔ (فوٹو:وکی پیڈیا)

گنگا رام کی مثال اس ابر کرم کی سی تھی جو برستا ہے تو بلاامتیاز برستا ہے۔
وہ جدید لاہور کے بانی تھے۔ ان کی لاہور سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کی راکھ خصوصی طور پر لاہور لا کر راوی میں بہائی گئی۔
سر گنگا رام اپریل اٹھارہ سو اکاون میں منگتانوالہ میں پیدا ہوئے جو شیخوپورہ میں واقع ہے۔ یہ مغلیہ سلطنت کے اختتام کا دور تھا، انگریز قابض ہو چکے تھے۔ ان کے والد دولت رام پولیس میں انسپکٹر تھے چونکہ اصولوں کے پکے تھے اس لیے جلد ہی ملازمت چھوڑ کر امرتسر منتقل ہونا پڑا۔ وہیں پر گنگا رام پلتے بڑھتے رہے۔ میٹرک کے بعد لاہور کا رخ کیا اور گورنمنٹ  کالج میں داخلہ لیا۔ شروع سے ہی انجینئرنگ کی طرف میلان تھا اور اگلے چند سال میں انجینئر بن گئے۔ کچھ عرصہ بعد ان کو اسسٹنٹ انجنیئر کی حیثیت سے گورداسپور میں تعینات کر دیا گیا۔ ڈی جی خان، پشاور، گوجرانوالہ میں نمایاں خدمات انجام دینے کے بعد ان کو لاہور میں ایگزیکٹو انجینئر تعینات کر دیا گیا۔
انہوں نے لاہور میں کیتھڈرل چرچ اور ہائیکورٹ کی عمارتوں کے نقشے بنائے۔ بعد ازاں ایچی سن کالج کی تعمیر کی ذمہ داری سونپی گئی اور اس کی تکمیل تک انگریز سرکار ان سے اس قدر متاثر ہو چکی تھی کہ چیف انجینئر بنا دیے گئے۔
وہ اس عہدے پر بارہ سال تک رہے اس دوران انہوں نے شہر کو بدل کر رکھ دیا۔
عجائب گھر، میو سکول آف آرٹس (این سی اے)، جی پی او، میو ہسپتال، گورنمنٹ کالج کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ جیسی عمارتوں کے ڈیزائن بنائے۔

سر گنگا رام انجینئر ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی سائنسدان اور سماجی کارکن بھی تھے (فوٹو:گنگا رام ہیریٹج فاؤنڈیشن)

ان کو دیومالائی کہانیوں کے اس کردار کی طرح سمجھا جانے لگا جو پلک جھپکتے شاندار محل تعمیر کر دیا کر دیتے تھے
لیڈی ویلنگٹن ہائی سکول، سرگنگارام ہائی سکول (لاہور کالج فار ویمن)، ہیلی کالج آف کامرس (کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس) جیسی یادگار عمارتیں بھی انہی کی تخلیق کردہ ہیں۔ ان کا فن لاہور سے باہر نکل کر دوسرے شہروں تک بھی پھیلا۔ فیصل آباد، سرگودھا، شیخوپورہ میں بھی کام کیا۔
وہ ایک کہنہ مشق انجینئراور انتھک انسان ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی سائنسدان اور سماجی کارکن بھی تھے۔ انیس سو پچیس میں ان کو امپریل بنک آف انڈیا کا صدر بنایا گیا۔ اس دوران انہوں نے گنگا رام ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔
جس کے پلیٹ فارم سے سر گنگا رام ہسپتال، ڈی اے وی کالج (موجودہ اسلامیہ کالج سول لائنز)، سر گنگا رام گرلز سکول (موجودہ لاہور کالج فار ویمن)، ادارہ بحالی معذوراں اور دیگر بے شمار فلاحی ادارے انہوں نے اپنے ذاتی خرچ سے قائم کیے۔ سر گنگا رام ہسپتال دہلی، گنگا بھون (انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) اور سر گنگا رام ہیریٹیج فائونڈیشن لاہور بھی ان کی یادگاریں ہیں۔
فیروز پور روڈ پر واقع ماڈل ٹائون بھی سر گنگا رام کا ہی دیا ہوا ہے۔ اس کا منصوبہ انہوں نے ہی انگریز حکومت دیا تھا اور پوری سوسائٹی کا نقشہ بھی بنایا۔ ان کو رائے بہادر اور سر کے خطابات کے علاوہ ممبر آف رائل وکٹورین آرڈر، کمپینئن آف دی انڈین ایمپائر کے اعزازات بھی ملے۔

سر گنگا رام نے جنرل پوسٹ آفس لاہور کی عمارت کا نقشہ بنایا تھا (فوٹو:گنگا رام ہیریٹج فاؤنڈیشن)

دس جولائی انیس سو ستائیس کو ان کا انتقال لندن میں ہوا۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کی آدھی راکھ دریائے گنگا میں بہا دی گئی جبکہ آدھی لاہور لا کر دریائے راوی میں بہائی گئی جس سے ان کی لاہور سے محبت آشکار ہوتی ہے۔
آج بھی اگر تعصب کی تمام کھڑکیاں بند کر کے اور انسانیت کا روشن دان کھول کر راوی کنارے جایا جائے تو آپ کو پانی میں ایک ایسے انسان کی شبیہہ مل سکتی ہے جو ہاتھ میں پنسل، ماپنے والا پیمانہ، ایک چھوٹا سا تھیلا اور کاغذ تھامے بہت مصروف لگ رہا ہے۔
ان کی وفات پر آج ہی کے روز بانوے برس قبل گورنر پنجاب سر میلکم نے کہا تھا ’ گنگا رام نے ایک ہیرو کی طرح کمایا اور ایک درویش کی طرح لٹایا‘
 

شیئر: