بنگلہ دیش: سابق چیف جسٹس پر رشوت کے الزام میں مقدمہ درج

بنگلہ دیش میں انسداد کرپشن کے محکمے نے ملک کے سابق چیف جسٹس پر کرپشن اور رشوت لینے کے الزامات کے تحت مقدمے کا اندراج کیا ہے۔
جمعرات کو انسداد کرپشن کے محکمے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دو سال قبل ملک سے فرار ہونے والے چیف جسٹس کو زبردستی مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سریندر کمار سنہا نے عدلیہ کی آزادی پر ایک تاریخی فیصلہ دیا تھا جو حکومت کے خلاف سمجھا گیا جس کے بعد ان کو 2017 میں ملک چھوڑنا پڑا۔ اس دوران حکومت پر یہ الزامات عائد کیے گئے کہ حکومت نے چیف جسٹس پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
بنگلہ دیش میں اپوزیشن جماعتوں نے سریندر کمار سنہا کے استعفے اور ملک سے باہر جانے کو عدلیہ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔
خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ سنہ 2009 سے برسراقتدار ہے۔
بدھ کو اینٹی کرپشن کمیشن نے سابق چیف جسٹس اور دس دیگر افراد کے خلاف رشوت لینے کا مقدمہ دائر کیا۔ مقدمے ایک بینک کے سربراہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں منی لانڈرنگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
اینٹی کرپشن کمیشن کے سیکریٹری دلاور بخت نے اے ایف پی کو بتایا کہ ملزمان پر جعلی کریڈٹ پیپرز کے ذریعے 40 ملین ٹکا (چار لاکھ 75 ہزار ڈالر) سابق چیف جسٹس کے بیرون ملک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا الزام ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مقدمہ اینٹی کرپشن کمیشن کے ضلعی دفتر میں درج کیا گیا۔

بنگلہ دیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ سنہ 2009 سے برسراقتدار ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

بنگلہ دیش کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی سابق چیف جسٹس پر کسی جرم میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس سنہا کو اکتوبر 2017 میں اس وقت مستعفی ہونا پڑا تھا جب سپریم کورٹ سے ایک غیر معمولی بیان جاری کیا گیا کہ رشوت لینے کے الزامات کی وجہ سے ساتھی جج ان کے ساتھ بنچ میں بیٹھنے سے انکاری ہیں۔
مستعفی ہونے سے کچھ ماہ قبل جسٹس سنہا کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے ججوں کو معزول کرنے کے پارلیمان کے اختیار کو ختم کر دیا تھا۔ اس فیصلے کو وکلا نے سراہتے ہوئے عدلیہ کی آزادی کا ضامن قرار دیا تھا۔
ملک سے باہر جانے کے بعد جسٹس سنہا نے ’بروکن ڈیم: قانونی کی حکمرانی، انسانی حقوق اور جمہوریت‘ کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں ان تمام واقعات کا ذکر کیا جو ان کے مستعفی ہونے سے قبل پیش آئے۔
بنگلہ دیش چھوڑتے وقت بھی جسٹس سنہا نے ایک تحریری بیان میں کہا تھا کہ وہ ملک میں عدلیہ کی آزادی کے لیے متفکر ہیں۔

شیئر: