امریکی وزیرِ دفاع اور پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ خود کو ’غیر واضح جنگوں‘ اور حکومتوں کی تبدیلی (ریجیم چینج) کے خلاف قرار دیتے رہے ہیں لیکن اب وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے ناقدین کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کیے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیے بغیر اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے مقاصد واضح نہیں ہیں، اس حوالے سے پیش کی جا رہی توجیہات بار بار بدل رہی ہیں، اور حالیہ جنگ کی مدت بھی غیر متعین ہے۔
یہ بالکل اسی قسم کا تنازع ہے جس میں ہیگسیتھ خود لڑ چکے ہیں اور اس کی مذمت بھی کر چکے ہیں لیکن اب وہ اسی کا دفاع کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ہیگسیتھ نے بدھ کے روز یہ کہا ہے کہ ’امریکا فیصلہ کن طور پر، تباہ کن انداز میں اور بغیر کوئی رحم کیے جیت رہا ہے۔ ہم نے ابھی تو صرف ان (ایران) کی صلاحیتوں کو تلاش کرنے، انہیں توڑنے، ان کا حوصلہ پست کرنے، تباہ کرنے اور شکست دینے کا عمل شروع کیا ہے۔‘
انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ ’میڈیا کے ادارے اور بائیں بازو کے سیاسی رہنما مسلسل ‘لامتناہی جنگوں’ کا شور مچا رہے ہیں، خدارا اب بس کر دیں۔ یہ عراق نہیں ہے۔ یہ لامتناہی جنگ نہیں ہے۔ ہماری نسل اور صدر بھی یہ بہتر طور پر جانتے ہیں۔‘
یہ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے دور میں امریکا کی پانچویں بڑی بین الاقوامی فوجی مداخلت ہے۔ اس سے قبل ان کے دور میں یمن کے باغیوں پر حملے، ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائی، منشیات سمگل کرنے والی کشتیوں پر حملے، اور وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپہ مار کارروائی بھی کی جا چکی ہے۔
اگرچہ مادورو کے خلاف کارروائی میں امریکی اہلکار زخمی ہوئے تھے، لیکن ہیگسیتھ کی نگرانی میں ہونے والی زیادہ تر کارروائیاں امریکا کی جانب سے تقریباً کسی قسم کی خون ریزی کے بغیر مکمل ہوئی ہیں۔ تاہم ایران کی جنگ میں اب تک چھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
45 سالہ ہیگسیتھ، جو قبل ازیں فاکس نیوز کے شریکِ میزبان رہ چکے ہیں، نے اس ہفتے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’وہ (میڈیا) جنگ میں منفی پیش رفتوں کو زیادہ نمایاں کر رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’فیک نیوز امریکا کی مجموعی کامیابی کو نظر انداز کر رہی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے زمینی فوج اتارے بغیر ایران کی فضائی حدود اور بحری راستوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے… لیکن جب چند ڈرون اندر آ جاتے ہیں یا کوئی افسوس ناک واقعہ پیش آ جاتا ہے تو وہ سرخیوں میں آ جاتا ہے۔‘
انہوں نے میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ ’صدر کو برا دکھانا چاہتا ہے۔‘

’امن ہمارا مقصد ہے‘
ہیگسیتھ ایک ایوارڈ یافتہ انفینٹری افسر رہ چکے ہیں جنہوں نے نیشنل گارڈ میں 18 سال سے زیادہ خدمات انجام دیں اور عراق اور افغانستان میں جنگی تعیناتیوں میں حصہ لیا۔ اس کے باوجود ان کا کیریئر متعدد سکینڈلز سے بھی متاثر ہوا ہے۔
ان کی نامزدگی کی توثیق کے دوران ان پر اُن غیر منافع بخش اداروں میں مالی بدانتظامی کے الزامات عائد ہوئے جہاں وہ کام کرتے رہے تھے۔ علاوہ ازیں، ضرورت سے زیادہ شراب نوشی اور کیلیفورنیا میں ایک خاتون پر جنسی حملے کے الزامات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
وزیرِ دفاع بننے کے چند ماہ بعد ہیگسیتھ ایک اور تنازع میں گھر گئے جو یمن پر حملوں سے متعلق تھا۔
دی اٹلانٹک میگزین نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے مدیرِاعلیٰ غلطی سے ایک سگنل چیٹ میں شامل ہو گئے تھے جس میں ہیگسیتھ اور دیگر حکام ایک متوقع فوجی کارروائی کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ اس چیٹ میں امریکی وزیر دفاع نے حملوں کے وقت سے صرف چند گھنٹے پہلے اس حوالے سے پیغامات بھی بھیجے تھے۔
ایک اور تنازع گزشتہ برس 2 ستمبر کو ایک مبینہ منشیات سمگلنگ کشتی پر حملے سے پیدا ہوا۔ ابتدائی حملے کے وقت کچھ افراد زندہ بچ گئے تھے، مگر بعد میں کیے گئے ایک دوسرے حملے میں ان میں سے دو افراد مارے گئے۔ ایک قانون ساز نے اسے ’تباہ شدہ جہاز کے عملے پر حملہ‘ قرار دیا تھا۔












