ویڈیو سکینڈل: اٹارنی جنرل سے تجاویز طلب کر لیں

پاکستان کی سپریم کورٹ میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوز لیک کرنے پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ختم ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل انور منصور خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے پر تجاویز طلب کر لیں۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 23 جولائی کو ہو گی۔
اس سے قبل آج منگل کو جب درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ اپنی درخواست پڑھ کر سنائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 6 جولائی کو ایک نیوز کانفرنس ہوئی؟ یہ نیوز کانفرنس کہاں ہوئی؟ 
اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ نیوز کانفرنس لاہور میں ہوئی۔ نیوز کانفرنس میں ویڈیو چلا کر یہ تاثر دیا گیا کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کر رہی اور اس پر دباؤ ہے۔ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، تمام سیاسی جماعتیں بھی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ پاکستان بار کونسل نے بھی از خود نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن قائم کرے۔
اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا اس سے غیر جانبداری پر سوال نہیں اٹھے گا کہ کسی کے کہنے پر تحقیقات کرائیں، از خود نوٹس وہ ہوتا ہے جو ہم خود لیں ،کسی کے مطالبے پر ازخود نوٹس نہیں لیا جاتا۔ یہ عدالت مطالبات پر نہیں چلتی، جسے کوئی مسئلہ ہے وہ درخواست دائر کرے۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ درخواست کی سماعت کر رہا ہے، تصویر: اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ غیر جانبدار ادارہ ہے، وہ پہلے ہی کیس سن رہا ہے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ تو سن رہی ہے لیکن اس کی الگ سے انکوائری کرائی جائے جیسے آپ نے جے آئی ٹی بنائی تھی۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تو عدالت نے اپنی معاونت کے لیے بنائی تھی، وہ جے آئی ٹی دوسری عدالت میں گئی اور ثابت ہوئی۔
سپریم کورٹ میں اشتیاق احمد مرزا نامی وکیل نے آئین کے آرٹیکل 184 تین کے تحت درخواست دائر کی اور سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے اس لیے کارروائی کی جائے۔ درخواست گزار کے مطابق مریم نواز نے عدلیہ کی توہین کی اور ادارے کو بدنام کرنے کے لیے الزامات عائد کیے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس عمر عطا بندیال شامل ہیں۔

جج کی مبینہ ویڈیو کی ریلیز

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے سنیچر چھ جولائی کو لاہور میں پارٹی کے صدر شہباز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو دکھائی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ ’جج نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو سزا سنانے کا فیصلہ دباؤ میں آ کر کیا۔‘
مریم نواز نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو جیل بھیجنے والے جج ارشد ملک پر 'نامعلوم افراد' کی طرف سے دباؤ تھا۔ 

 جج ارشد ملک کی خدمات محکمہ قانون پنجاب کو واپس کر دی گئی ہیں، فوٹو: سوشل میڈیا

جج ارشد ملک کا مؤقف

مریم نواز کی ویڈیو لیکس پریس کانفرنس کے بعد اتوار سات جولائی کو جج ارشد ملک نے اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں اپنے چیمبر سے میڈیا کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ان کی ویڈیو ’من گھڑت‘ اور ’جعلی‘ ہیں۔
جج ارشد ملک نے ایک صفحے کے تحریری بیان میں ویڈیوز کو ’جھوٹی، جعلی اور مفروضوں پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بارہا نہ صرف رشوت کی پیش کش کی گئی بلکہ تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ میں نے ان دھمکیوں کو سختی سے رد کرتے ہوئے حق پر قائم رہنے کا عزم کیا اور اپنی جان و مال کو اللہ کے سپرد کر دیا۔
پریس ریلیز میں جج ارشد ملک نے کہا کہ ’ویڈیوز میں دکھائے گئے کردار ناصر بٹ کا تعلق میرے شہر راولپنڈی سے ہے اور ان سے میری پرانی شناسائی ہے۔‘
جج نے کہا کہ ’ناصر بٹ اور اس کا بھائی عبداللہ بٹ مختلف اوقات میں مجھ سے کئی بار مل چکے ہیں۔

مبینہ ویڈیو پر حکومتی ردعمل

جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس کا فرانزک آڈٹ اور تحقیقات کرائے گی تاہم بعد ازاں یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔
اتوار سات جولائی کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’حکومت اس آڈیو اور ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرائے گی اور جج بھی اس پر توہین عدالت کی کارروائی کر سکتے ہیں۔‘
بعد ازاں وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو ٹیپ کے اجرا کے معاملے کی تحقیقات خود متعلقہ عدالت کو کرنی چاہئیں۔

مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس جج ارشد ملک کی مزید دو ویڈیوز بھی موجود ہیں، فوٹو: اے ایف پی

ویڈیو پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا نوٹس

اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کی نگرانی اور انتظامی امور دیکھنے والے ادارے اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے جمعہ کو جج ارشد ملک کو ان کی مبینہ ویڈیوز پر اپنے چیمبر میں طلب کیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد جج ارشد ملک نے اپنا بیان حلفی جمع کرایا جس کے بعد ہائی کورٹ نے وزارت قانون کو ایک خط کے ذریعے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی خدمات واپس کرنے سے متعلق آگاہ کیا۔

جج ارشد ملک کا بیان حلفی

اسلام آباد ہائی کورٹ کو اپنے دفاع میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے کہا کہ نواز شریف کے  ایک نمائندے ناصر جنجوعہ نے ان کو پیشکش کی کہ اگر وہ سابق وزیراعظم کی بریت کا فیصلہ دے دیں تو ان کو یوروز میں دس کروڑ روپے کے برابر کی رقم فوری طور پر دی جا سکتی ہے۔

وزیر قانون کی رائے

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے جمعہ کو بتایا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو فوری طور پر مزید کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور انھیں محکمہ قانون پنجاب کو رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔
اسلام آباد میں وزیر قانون نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے موصول خط میں کہا گیا ہے کہ بیان حلفی اور پریس ریلیز کے تناظر میں جج ارشد ملک کواحتساب عدالت نمبر 2 کے جج کے عہدے سے سبکدوش کر دیا جائے اور وہ لاہور ہائی کورٹ کو رپورٹ کریں۔

شیئر: