مریم نواز کی میڈیا سنسرشپ نہیں ہونی چاہیے: فواد چوہدری

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز شریف کے انٹرویوز کی مقامی میڈیا میں مبینہ سنسرشپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنسرشپ ایک مرتا ہوا تصور ہے۔
اردو نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم کے معتمد خاص وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ خیالوں کی لڑائیاں سنسرشپ سے کنٹرول نہیں ہوتیں۔
حالیہ دنوں مختلف ٹی وی چینلز پر مریم نواز کے انٹرویوز سینسر کیے جانے کی شکایت کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ’ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔سیاست کا مقابلہ سیاست سے ہی ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جو لوگ سمجھتے ہیں کہ 2019 میں سنسرشپ کر کے معاملات چلا لیں گے وہ پچھلی دنیا میں رہتے ہیں۔ سنسرشپ ایک مرتا ہوا تصور ہے۔‘

مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز کا الزام ہے کہ انھیں سنسرشپ کا سامنا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی

فواد چوہدری پچھلے سال اگست سے اس سال اپریل تک پی ٹی آئی حکومت کے وزیراطلاعات رہ چکے ہیں اور پاکستان میں میڈیا کی ریگولیشن کے حوالے سے متعدد تجاویز دے چکے ہیں۔
 
فواد چوہدری کو اپنے بیانات کی وجہ سے اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان میں احتساب کے ادارے نیب نے ان کے بیانات کا دو دفعہ نوٹس لیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کا بھی عندیہ بھی دیا تھا۔ پچھلے سال بطور وزیراطلاعات انہوں نے علیم خان کی گرفتاری پر ٹویٹ کی تھی اواس سال جون میں انہوں نے ملک میں جاری احتساب عمل کو پی ٹی آئی حکومت کا کارنامہ قرار دیا تھا۔
اس حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیانات سے کبھی دفعہ حکومت خوش نہیں ہوتی، کبھی عدالت اور کبھی نیب۔ ’میرے لیے بڑا مشکل ہے جو دل میں ہو وہ بات نہ کرنا، میں جیسا محسوس کرتا ہوں کہہ دیتا ہوں۔‘
جب سے فواد چوہدری وزیر سائنس بنے ہیں ان کے خلاف مزاحیہ میمز اور لطیفے سوشل میڈیا پر گردش کرنا شروع ہو گئے۔ تاہم وہ خندہ پیشانی سے ان لطیفوں کو قبول کرتے ہیں اور اسے عوامی زندگی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
اس حوالے سے جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسے میمز میں حالیہ کمی سے کہیں وہ پریشان تو نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں وہ فیزز ہوتے ہیں میرے ساتھ۔ آپ دیکھیں گے ایک فیز آتا ہے پھر چلا جاتا ہے پھر دوسرا آجاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کیا جانا ضروری ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر چند گروپس پیسے لیکر کسی کے خلاف بھی ٹرینڈ بنا دیتے ہیں۔

’میرے لیے بڑا مشکل ہے جو دل میں ہو وہ بات نہ کرنا، میں جیسا محسوس کرتا ہوں کہہ دیتا ہوں‘: تصویر اے ایف پی

جب ان سے پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی پر بھی ایسے ہی ٹرینڈز بنانے کا الزام لگتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے آفیشل پیچز سے ایسا نہیں کیا جاتا کچھ لگ خود سے سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹیں کر دیتے ہیں اسی لیے اس کی ریگولیشن ضروری ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صحافی جب سیاستدانوں کی ٹرولنگ کرتے ہیں تو انہیں بھی ٹرولنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
 

شیئر: