ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس معطل

ٹوئٹر کی جانب سے کئی ایرانی نیوز ایجنسیوں کے اکاؤنٹس معطل کیے جانے کے ایک دن بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے سنیچر کو بتایا کہ یہ اقدام بہائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہراساں کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
جمعہ کو ایران کی جانب سے برطانوی آئل ٹینکر پر قبضہ کیے جانے کے بعد خطے کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں بعض ایرانی نیوز ایجنسیوں کا خیال تھا کہ یہ پابندی  قبضے کی کوریج کرنے کی وجہ سے عائد کی گئی ہے۔
لیکن ٹوئٹر نے واضح کیا ہے کہ اکاؤنٹس کی یہ معطلی بہائی مذہب کے پیروکاروں جو ایران میں مشکلات کا شکار اقلیتی برادری ہیں،کو ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ہے۔
ٹوئٹر نے معطل کیے جانے والے اکاؤنٹس کے نام ظاہر نہیں کیے تاہم یہ کہا گیا ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسیوں کے اکاؤنٹس پر انگلش میں یہ پیغام پڑھا جاسکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’اکاؤنٹ معطل ہے۔ ٹوئٹر ان اکاؤنٹس کو معطل کردیتا ہے جو اس کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ’آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر برطانوی بحری جہاز کو ضبط کرنے کی خبر نشر کرنے کے ساتھ مہر نیوز ایجنسی کا فارسی زبان کا اکاؤنٹ معطل کردیاگیا ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے فارسی زبان میں ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ساتھ ایران کی اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی اور ینگ جرنلسٹس کلب ایجنسی کے اکاؤنٹس بھی معطل کیے گئے ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسیوں کا خیال تھا کہ یہ پابندی آبنائے ہرمز میں برطانوی آئل ٹینکر پر قبضے کی کوریج کرنے کی وجہ سے عائد کی گئی ہے۔(فوٹو: اے ایف پی)

ینگ جرنلسٹس کلب نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ’گذشدتہ رات اور آبنائے ہرمز میں برطانوی آئل ٹینکر پر قبضے کے بعد سے ینگ جرنلسٹس کلب اور دیگر کئی صارفین کے اکاؤنٹس معطل ہوگئے ہیں۔‘
مہر نیوز ایجنسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’ایک اوراکاؤنٹ جس میں تجزیہ ، انٹرویوزاور بین الاقوامی رپورٹس  نشر کی جاتی تھیں وہ بھی معطل کیا گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم پر ایران میں پابندی عائد ہے تاہم کئی سرکاری حکام کے ان پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس ہیں اور صارفین ایک ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورک ( وی پی این) نامی ایپ کے ذریعے ان اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

شیئر: