Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ شامل ہو گا، پاکستان کا فیصلہ باقی

بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ انڈیا میں کھلاڑیوں کو سکیورٹی کے خدشات ہو سکتے ہیں (فوٹو: گیٹی)
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے انڈیا میں کھیلنے سے انکار کے بعد ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
’ای ایس پی این کرک انفو‘ کے مطابق یہ فیصلہ قریباً تین ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا، جن میں بنگلہ دیش نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر انڈیا ٹیم بھیجنے سے انکار کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق آئی سی سی نے جمعے کی شام کو بی سی بی کو ای میل کے ذریعے فیصلے سے آگاہ کیا جس کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ بنگلہ دیش کی ٹیم ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کرے گی۔
اس سے قبل بی سی بی نے آئی سی سی کو بتایا تھا کہ بنگلہ دیش حکومت نے سات فروری سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے انڈیا جانے کی اجازت نہیں دی۔
قبل ازیں جمعرات کو آئی سی سی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ اس معاملے کو آئی سی سی کی ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (ڈی آر سی) میں لے جانا چاہتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بی سی بی کس بنیاد پر ڈی آر سی سے رجوع کرنا چاہتا ہے یا اس حوالے سے آئی سی سی کا ردعمل کیا تھا۔ ڈی آر سی ایک آزاد کمیٹی ہے جسے آئی سی سی رکن بورڈز اور عالمی ادارے کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے تشکیل دیتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق بی سی بی کے لیے ڈی آر سی کا راستہ اختیار کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ آئی سی سی بورڈ واضح اکثریت سے یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ اگر بنگلہ دیش انڈیا نہ گیا تو اس کی جگہ کسی متبادل ٹیم کو شامل کیا جائے گا۔ ڈی آر سی کے ضابطے کی شق ایک اعشاریہ تین کے مطابق یہ کمیٹی آئی سی سی یا اس کے کسی فیصلہ ساز ادارے کے فیصلوں کے خلاف اپیل فورم کے طور پر کام نہیں کر سکتی بلکہ صرف ان فیصلوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہے۔
یہ فیصلہ بدھ کو آئی سی سی بورڈ کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کیا گیا، جو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوا تھا۔ اجلاس میں بورڈ ممبران کی اکثریت نے اس حق میں ووٹ دیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش انڈیا میں کھیلنے پر آمادہ نہ ہو اور اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کے مطالبے پر قائم رہے تو اسے تبدیل کر دیا جائے۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں آئی سی سی نے کہا کہ ’ٹورنامنٹ کے آغاز میں چند ہی دن باقی ہونے کی وجہ سے شیڈول میں تبدیلی ممکن نہیں۔‘

اس سے قبل بنگلہ دیش کے مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے باہر نکالا گیا تھا (فوٹو: گیٹی)

آئی سی سی بورڈ کا کہنا تھا کہ ’انڈیا میں ٹیموں کے لیے کسی قابلِ اعتبار سیکیورٹی خطرے کے بغیر شیڈول میں ردوبدل مستقبل کے آئی سی سی ایونٹس کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے اور عالمی ادارے کی غیرجانبداری کو متاثر کر سکتا ہے۔‘
اس سے قبل آئی سی سی نے بی سی بی کو جمعرات تک کی مہلت دی تھی کہ وہ بنگلہ دیش حکومت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرے کہ آیا وہ موجودہ شیڈول کے مطابق انڈیا جائے گا یا نہیں۔ بنگلہ دیش گروپ سی میں شامل تھا اور اسے اپنے ابتدائی تین میچ کولکتہ جبکہ چوتھا میچ ممبئی میں کھیلنا تھا جو اب سکاٹ لینڈ کھیلے گا۔
تاہم جمعرات کو بنگلہ دیش حکومت اور بی سی بی نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہرایا کہ ٹیم انڈیا کا دورہ نہیں کرے گی۔ بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے اس موقع پر آئی سی سی پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’جس طرح انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان جانے سے انکار کیا تھا، اسی طرح بنگلہ دیش کے ساتھ بھی برتاؤ ہونا چاہیے تھا۔‘
یاد رہے کہ سکیورٹی خدشات کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب تین جنوری کو بی سی سی آئی کی ہدایت پر کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 کے سکواڈ سے نکال دیا تھا۔

محسن نقوی کے مطابق پاکستان کی ٹی20 ورلڈ میں شمولیت کا فیصلہ حکومت کرے گی (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کی ٹی20 ورلڈ کپ میں شمولیت مشکوک؟

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ٹی20 ورلڈکپ میں شرکت سے متعلق فیصلہ حکومت پاکستان کرے گی۔ 
سنیچر کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے زیادہ حکومت پاکستان کے تابع ہیں اور ٹی20 ورلڈکپ میں شرکت سے متعلق فیصلہ حکومت پاکستان کرے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے حتمی فیصلے کے لیے وزیراعظم کی آمد کے منتظرہیں، پہلے حکومت فیصلہ بتادے پھر پلان اے، بی، سی تیار ہے۔‘ 
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ’بنگلادیش کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، یہ دہرا معیار ہے، ایک ملک سب کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا۔‘ 
انہوں نے کہا کہ ’جیسا فیصلہ پاک انڈیا معاملے کا ہوا، ویسا ہی بنگلا دیش کے ساتھ ہونا چاہیے، بنگلا دیش برابر کا ملک ہے، اگر انڈیا کو فیور دیا گیا تو بنگلا دیش کو بھی ملنا چاہیے۔‘

شیئر: