چین میں اعلٰی فوجی عہدے داروں کو ’نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کے الزام میں تحقیقات کا سامنا
چین میں اعلٰی فوجی عہدے داروں کو ’نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کے الزام میں تحقیقات کا سامنا
ہفتہ 24 جنوری 2026 11:42
یہ اقدام صدر شی جن پنگ کی جانب سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے جاری وسیع مہم کا حصہ ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
چین نے کہا ہے کہ اس کے طاقتور مرکزی فوجی کمیشن کے سینیئر نائب چیئرمین اور ایک دوسرے اعلٰی عہدیدار کے خلاف مبینہ طور پر ’نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کے الزام میں تفتیش کی جا رہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا اس خبر کے حوالے سے کہنا ہے کہ چین میں عام طور پر ’نظم و ضبط کی خلاف ورزی‘ کی اصطلاح بدعنوانی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔‘
چینی وزارت دفاع نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ ’شواہد کا جائزہ کے بعد ژانگ یوشیا اور لیو ژین لی کے خلاف تفتیش شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ اقدام صدر شی جن پنگ کے اقتدار میں آنے کے بعد گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران پارٹی اور ریاست کے تمام اداروں میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے جاری وسیع مہم کا حصہ ہے۔
ژانگ یوشیا کی عمر 75 برس ہے اور وہ مرکزی فوجی کمیشن (سی ایم سی) کے دو نائب چیئرمینوں میں سے زیادہ سینیئر جنرل ہیں۔
دوسرے نائن چیئرمین ژانگ شینگ من بیجنگ کی خفیہ راکٹ فورس سے تعلق رکھنے والے جنرل ہیں اور دونوں ان کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔
ژانگ شینگ من کو اکتوبر میں اس عہدے پر ترقی دی گئی تھی، جب اُن کے پیش رو کو بدعنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا گیا تھا۔
لیو کی عمر 61 سال ہے اور سی ایم سی کے جوائنٹ سٹاف ڈیپارٹمنٹ کے چیف آف سٹاف ہیں۔
چین میں کرپشن کے الزام میں گذشتہ برس دسمبر میں ایک ریاستی مالیاتی کمپنی کے سابق ایگزیکٹیو کو پھانسی دے دی گئی۔
چینی وزارت دفاع کے مطابق ’شواہد کا جائزہ کے بعد ژانگ یوشیا اور لیو ژین لی کے خلاف تفتیش کا فیصلہ ہوا‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
چائنہ ہوارونگ انٹرنیشنل ہولڈنگز کے سابق جنرل مینیجر بائی تیانہوئی پر 2014 سے 2018 کے دوران مختلف منصوبوں کی مد میں 15 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رشوت لینے کا الزام ثابت ہوا تھا۔
گذشتہ برس ہی چین کی ایک عدالت نے کمیونسٹ پارٹی تبت کے سابق سربراہ کو لگ بھگ 50 ملین ڈالر کی کرپشن کے جرم میں سزائے موت سنائی۔
بیجنگ کی انٹرمیڈیٹ کورٹ کے مطابق وو ینگ جی سنہ 2016 سے 2021 تک خودمختار علاقے تبت میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری کے عہدے پر فائز رہے۔
عدالت کے بیان میں بتایا گیا تھا کہ اس دوران انہوں نے غیرقانونی طور پر 343 ملین یوان یعنی چار کروڑ 78 لاکھ ڈالر رشوت وصول کی۔
یاد رہے کہ صدر شی جن پنگ نے بدعنوانی کو ’کمیونسٹ پارٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’بدعنوانی کے خلاف جنگ اب بھی سنگین اور پیچیدہ معاملہ ہے۔‘