Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یونان میں مہاجرین کی سمگلنگ کی سزاؤں کو سخت کرنے کی کوشش

2015 کے بحران کے دنوں سے یونان شامی مہاجرین کی یورپ تک رسائی کا دروازہ رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
یونان کی پارلیمنٹ کے سامنے ایک مسودہ پیش ہوا جس میں وزارت مائیگریشن نے اعلان کیا کہ اب انسانی سمگلنگ کے خلاف قوانین پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوں گے اور انہیں توڑنے والوں کو عمر قید تک کی سزا دی جا سکے گی۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 2015 کے بحران کے دنوں سے یونان شامی مہاجرین کی یورپ تک رسائی کا دروازہ رہا ہے۔ انہی راستوں پر کئی امدادی کارکن آج بھی مقدمات بھگت رہے ہیں، جن پر اُن لوگوں کی مدد کرنے کا الزام ہے جنہیں وہ مجرم نہیں بلکہ بے سہارا سمجھتے تھے۔
مسودے کے مطابق غیرقانونی طور پر آنے والوں کی کوئی بھی مدد، چاہے وہ باقاعدہ رہائشی اجازت رکھنے والا شخص کرے، جرم تصور ہوگی۔ اگر کوئی مہاجر کسی جرم میں ملوث پایا گیا تو اُسے براہِ راست ملک بدر کیا جا سکے گا۔ یہی نہیں، این جی اوز کے اراکین کے لیے بھی قید اور بھاری جرمانوں کی شقیں شامل کی گئی ہیں اور تنظیم کو صرف ایک رکن پر الزام لگنے پر ہی رجسٹر سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
56 تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ قانون انسانی حقوق کے اصولوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔
اسی دوران جزیرہ لیسبوس کی عدالت نے ایک اہم فیصلہ سنایا جس کے تحت 24 رضاکار، جن میں مشہور شامی رضاکار سارہ مردینی بھی شامل تھیں، تمام الزامات سے بری ہو گئیں۔ یہ فیصلہ نئے قانون کے پس منظر میں اور بھی معنی خیز ہو گیا۔
دوسری طرف حکومت کا کہنا تھا کہ مقصد صرف سختی نہیں بلکہ قانونی ہجرت کے راستوں کو منظم کرنا ہے۔ نئے ویزوں، طلبہ کے رہائشی اجازت ناموں اور ورک پروگرامز کے ذریعے وہ چاہتے ہیں کہ جو مہاجر رہنا چاہیں، وہ باعزت روزگار بھی پا سکیں۔

 

شیئر: