نوجوان فنکاروں اور آزادی کو فروغ دینے کے لیے ’ڈرامہ سکول‘

مامانے کا شمار افریقہ کے مشہور ترین فنکاروں میں ہوتا ہے۔ فوٹو: ٹویٹر
افریقہ کے سب سے مشہور کامیڈین مامانے افریقی ملک نائجر کے دارالحکومت نیامی کے مضافات میں ایک دھول زدہ زمین کا ٹکڑا دکھاتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ وہ کرپشن زدہ ملک میں افریقی فنکاروں اور آزادی کو فروغ دینے کے لیے یہاں ڈرامہ سکول تعمیر کریں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انگریزی بولنے والے ممالک میں غیر مقبول مامانے فرانسیسی بولنے والے افریقوں میں خاصے مشہور ہیں جس کی وجہ ان کا طنزیہ ریڈیو پروگرام ’بہت ہی جمہوری، جمہوریہ گونڈوا‘ ہے۔ اس پروگرام میں بدعنوان حمکرانوں اور ان کو متعارف کروانے والی امیر ریاستوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔  
اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ فرانس میں گزانے والے مامانے فخر کے ساتھ خوش ہو کر بتا رہے ہیں کہ وہ ایسا ڈرامہ سکول شروع کریں گے جہاں نائجر کے نوجوانوں کو کامیڈی اور طنز و مزاح پر تربیت دی جائے گی۔
’ہم سب مسلمان اور مسیحی ہیں بلکہ ہم سب انسان ہیں۔ یہ وہ سکول ہو گا جس میں آزادی اور زندگی کے ساتھ محبت کرنا سیکھایا جائے گا۔ ہم رواداری اور پیار محبت سے مل جل کر رہنا چاہتے ہیں۔‘
اقوام متحدہ کی جانب سے دنیا کے سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل دہشت گردی اور غربت سے متاثرہ نائجر میں ڈرامہ سکول کھولنا ایک غیر معمولی منصوبہ ہے۔

مامانے کہتے ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا اہم ترین منصوبہ ہوگا۔ فوٹو: ٹوئٹر
مامانے کہتے ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا اہم ترین منصوبہ ہوگا۔ فوٹو: ٹویٹر

مامانے کہتے ہیں کہ ’جہادی لوگوں کو آزادی اور خوشی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس سکول کا مقصد افریقی نوجوانوں کے لیے نوکریوں کے مواقع  پیدا کرنا اور ان کو یہ باور کروانا ہوگا کہ یہاں افریقہ میں نوکریوں کے مواقع ہیں۔‘
فرانس کے بین الاقوامی ریڈیو کے اعدادوشمار کے مطابق مامانے کے ریڈیو پروگرام کو لگ بھگ تین کروڑ سنتے ہیں جو 2016 مامانے کی طنزیہ فلم ’گونڈوا میں خوش آمدید‘ بھی دیکھ چکے ہیں۔
ریڈیو پروگرام کی طرح اس فلم میں بھی مامانے افریقہ کی اس ریاست پر طنز  کرتے ہیں جس کا لالچی آمر حکمران حکومت سے چمٹا رہنا چاہتا ہے۔
ایک پولیس آفیسر کی جانب سے روکے جانے اور چیکنگ کے دوران انہیں پہچاننے کے بعد سیلوٹ کرنے پر مامانے نے بتایا کہ ’افریقہ میں بعض اوقات پولیس والے مجھے صدر کہتے ہیں۔‘
1966 میں پیدا ہونے والے مامانے اگرچہ پلانٹ فزیالوجی میں ماسٹر کر چکے ہیں مگر انہیں آرٹ سے محبت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سکول میری زندگی کا سب سے اہم منصوبہ ہوگا۔‘

شیئر: