حکومت اگست تک مستعفی ہوجائے،فضل الرحمان

'حکومت کو اگست تک کی مہلت دے رہے ہیں'(فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی حزب اختلاف کی مذہبی جماعت جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اکتوبر میں اسلام آباد کی جانب حکومت مخالف مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ کے ذریعے مسلط کی گئی ہے اور ملک میں نئے انتخابات ہونے چاہئیں، حکومت کو اگست تک کی مہلت دے رہے ہیں اگر مستعفی نہ ہوئی تو اگلا مارچ اسلام آباد میں ہوگا۔
صوبہ بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ کے وسط میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس اجتماع کو ختم نبوت ملین مارچ کا نام دیا گیا تھا جس میں بلوچستان بھر سے آئے جمعیت کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ 

’اس اجتماع کا یہ پیغام ہے کہ پاکستان میں جعلی اور کٹ پتلی حکومت انہیں قبول نہیں۔‘

مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ کے اجتماع کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع کا یہ پیغام ہے کہ پاکستان میں جعلی اور کٹ پتلی حکومت انہیں قبول نہیں۔ بیرونی ایجنڈے پر عالمی قوتوں کے نمائندوں کی جعلی حکومت کے خلاف ہم طبل جنگ بجا چکے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’میں بڑے واضح انداز میں پاکستان کے تمام ریاستی اداروں کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آئین ، جمہوریت اور سیاسی عمل کے ساتھ کھڑے ہیں۔  پاکستان کو افغانستان نہ بنایا جائے، اگر یہ بضد ہیں کہ ہم ملک پر مسلط رہیں گے تو آﺅ دو دو ہاتھ کرلیں۔ ‘
جمعیت علماءاسلام کے سربراہ نے کہا کہ ’فوج تو پورے ملک کی فوج ہیں ہمارا ادارے سے کوئی جھگڑا نہیں ہمیں ادارے کے بڑوں کی پالیسیوں سے اختلاف ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018ءکو ہونے والے انتخابات کے دوران پاکستان کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ ملک میں نئے انتخابات ہوں۔

’اگر یہ بضد ہیں کہ ہم ملک پر مسلط رہیں گے تو آﺅ دو دو ہاتھ کرلیں۔‘

امیر جے یو آئی نے کہا کہ جعلی وزیراعظم کے دورہ امریکہ سے سب کچھ بے نقاب ہوگیا، علماءاور مذہبی رہنماﺅں کو گرفتار کیا جارہا ہےجبکہ توہین رسالت کے مرتکب افراد کو سہولیات فراہم کرکے رہا کررہے ہیں۔ 
انہوں نے وزیرستان اور بلوچستان میں فوجی جوانوں کی دہشتگرد حملوں میں شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم ان واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے تقریر کے اختتام پر رواں سال اکتوبر کے مہینے میں اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پہلے مرحلے میں حکومت کو مہلت دے رہے ہیں کہ وہ اگست کے مہینے میں مستعفی ہوجائے۔اگر استعفیٰ نہ دیا تو پھر اکتوبر میں ہم اسلام آباد میں ہوں گے۔ یہ آزادی مارچ ہوگا جس طرح ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی اب ہم یہودی لابی سے آزادی حاصل کریں گے۔‘

’تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ ملک میں نئے انتخابات ہوں۔‘

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ  نے کہا کہ یہ جمہوری حکومت نہیں ایک غیر اعلانیہ مارشل لاءکو ملک پر مسلط کیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت جمہوری نہیں جلد ان کا ایجنڈا اور کارکردگی سامنے آگئی ہے ۔ملک کی معیشت ہچکولے کھارہی ہے، ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف ٹیکسوں کی بھر مار ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے نیب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’نیب کا ادارہ مشرف دور میں اتنا بے نقاب نہیں ہوا جتنا آج ہورہا ہے، نیب احتساب کا ادارہ نہیں سیاستدانوں کیخلاف محض ایک انتقامی ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ یہ ہمیں ڈراتے ہیں کہ نیب آپ کو پکڑ لے گا، گرفتاری کوئی چیز نہیں اب سر دھڑ کی بازی لگانے کا وقت آچکا ہے‘۔

شیئر: