عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے کو خرید لیا
عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے کو خرید لیا
منگل 23 دسمبر 2025 15:09
عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص خرید لیے ہیں، جبکہ کنسورشیم کے پاس باقی 25 فیصد شیئرز 90 روز میں خریدنے کا آپشن موجود ہے۔
منگل کو اسلام آباد میں پی آئی اے کی لائیو نجکاری کے عمل میں عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے سب سے زیادہ 135 ارب روپے کی بولی لگائی جبکہ لکی کنسورشیم 134 ارب روپے کی بولی تک محدود رہا۔
پی آئی اے کی نجکاری کے دوسرے مرحلے میں عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے زیادہ 121 ارب روپے کی بولی لگائی۔ جبکہ لکی کنسورشیم نے 120 ارب 25 کروڑ روپے کی بولی لگائی اور 30 منٹ کا اضافی وقت بھی مانگا۔ تاہم بعد میں بھی عارف حبیب کنسورشیم ہی آگے رہا۔
پہلے مرحلے میں لکی کنسورشیم نے 101 ارب 50 کروڑ، ایئربلیو کنسورشیم نے 26 ارب 50 کروڑ جبکہ عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی بولی لگائی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے پی آئی اے کی نجاری کے لیے کم از کم 100 ارب روپے کی ریفرنس پرائس (یعنی اس قیمت سے نیچے بولی قابل قبول نہیں ہو گی) رکھی تھی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ برس پی آئی اے کی نجکاری کا عمل ناکام ہو گیا تھا اور تین کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی ایک ہی بولی موصول ہوئی تھی، جو حکومت کی مطلوبہ 30 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی قیمت سے کہیں کم تھی۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج سے ڈی لسٹ ہونے سے قبل پی آئی اے نے سنہ 2022 میں 43 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا خسارہ ظاہر کیا تھا۔
پاکستان نے گذشتہ برس بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے پانے والے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت سنہ 2029 تک مالیات، توانائی، صنعتی اور ریٹیل کے شعبوں میں خسارے میں جانے والے درجنوں سرکاری اداروں کی نجکاری یا فروخت کا وعدہ کیا ہے۔
کنسورشیم کے پاس پی آئی اے کے بقیہ 25 فیصد شیئرز 90 روز میں خریدنے کا آپشن موجود ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
ان میں سے کئی اداروں کو بدانتظامی اور کرپشن کے باعث اربوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کو انہیں چلتا رکھنے کے لیے مسلسل مالی معاونت فراہم کرنا پڑتی ہے۔
سنہ 1955 میں قائم ہونے والی پی آئی اے کئی برسوں تک قومی وقار اور تیز رفتار ترقی کی علامت رہی۔ اس کا بین الاقوامی نیٹ ورک اپنی مثال آپ تھا اور 1960 کی دہائی میں اس کی فضائی میزبانوں کی وردیاں معروف فرانسیسی ڈیزائنر پیئر کارڈین نے تیار کیں۔
تاہم بھاری مالی نقصانات اور سنگین حفاظتی خامیوں کے باعث ایئرلائن کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
جون 2020 میں پی آئی اے پر یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا کے لیے پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، جو کراچی کی ایک سڑک پر اس کے ایئربس اے 320 طیارے کے حادثے کے ایک ماہ بعد لگائی گئی، جس میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سنہ 1955 میں قائم ہونے والی پی آئی اے کئی برسوں تک قومی وقار اور تیز رفتار ترقی کی علامت رہی۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یورپ اور برطانیہ نے رواں برس پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی کی اجازت دے دی ہے، تاہم امریکہ کے لیے آپریشنز تاحال بحال نہیں ہو سکے۔
حکام کے مطابق پی آئی اے کے تقریباً 34 طیاروں کے بیڑے میں سے صرف 18 طیارے اس وقت فعال ہیں۔