’قبضہ مافیا کو فائدہ ہوگا‘، پروٹیکشن آف اونرشپ آرڈیننس کی معطلی پر مریم نواز کا ردعمل
’قبضہ مافیا کو فائدہ ہوگا‘، پروٹیکشن آف اونرشپ آرڈیننس کی معطلی پر مریم نواز کا ردعمل
منگل 23 دسمبر 2025 12:15
پیر کو لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف موویبل پراپرٹی آرڈینسس پر عملدرآمد روک دیا تھا (فائل فوٹو)
پنجاب کی وزیراعلٰی مریم نواز نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کے فیصلے کو اعلٰی عدلیہ کے مسلمہ اصولوں کے خلاف قرار دے دیا ہے۔
منگل کو جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ قانون کی معطلی سے قبضہ مافیا کو فائدہ ہو گا اور عوام اس کو قبضہ مافیا کی پشت پناہی سمجھیں گے۔
ان کے مطابق ’یہ قانون مظلوم عوام کو تحفظ دیتا ہے جس میں انتظامی اور قانونی تمام پہلوؤں کو جامع انداز میں شامل کیا گیا۔‘
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’ہم نے برسوں اور دہائیوں کے ستائے ہوئے لاکھوں اہل پنجاب کی مدد کا قانون بنایا جس میں نسلوں تک چلنے والے مقدمات کے لیے پہلی بار 90 روز کی حد مقرر کی گئی۔’
ان کے مطابق ’یہ قانون مریم نواز کے فائدے کے لیے تھا نہ ہی اس کی معطلی سے ہماری ذات کو کوئی نقصان ہوا ہے البتہ قبضہ اور لینڈ مافیا کے ستائے عوام کا بڑا نقصان ضرور ہوا ہے۔‘
مریم نواز نے واضح کیا کہ ’قانون سازی کرنا صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ہے جس سے اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ اس قانون کو روکے جانے سے ان غریبوں، مسکینوں، بے کسوں، بیواؤں اور مظلوموں کو نقصان ہو گا، جن کی داد رسی ہو رہی تھی۔
ان کے بقول ’اس سے غریب اور مظلوموں کو انصاف ملنے کی آس ٹوٹ جائے گی۔‘
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آرڈیننس کے خلاف دی گئی درخواستوں کی سماعت کی تھی (فوٹو: لاہور ہائیکورٹ)
خیال رہے پیر کو لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 پر عملدرآمد روک دیا تھا۔
کچھ عرصے سے پنجاب حکومت سڑکوں کی بحالی، تجاوزات کے خلاف مہم اور زمینوں پر قبضے کے خاتمے جیسے اقدامات کو اپنی گورننس کا مرکزی بیانیہ بنا رہی تھی۔
اس کا مؤقف یہ تھا کہ ریاست اب کمزور اور مظلوم طبقے کے ساتھ کھڑی ہے اور برسوں سے زیرِ التوا مسائل کو فوری حل کیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں ہی قبضہ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا اور اسے قانونی تحفظ دینے کے لیے یہ نیا آرڈیننس نافذ کیا گیا۔
آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ جائیداد پر قبضے کی شکایت موصول ہونے پر 90 دن کے اندر فیصلہ کریں اور قبضہ ثابت ہونے کی صورت میں فوری طور پر جائیداد اصل مالک کے حوالے کر دی جائے۔
تاہم ابتدا سے قانونی ماہرین نے آرڈیننس پر سوالات اٹھائے تھے اور معاملہ عدالت پہنچ گیا تھا۔