Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈاکٹر کی مریض پر تشدد کی وائرل ویڈیو، تنازع کی اصل وجہ کیا تھی؟

ویڈیو میں موجود ڈاکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ (فوٹو: ایکس)
آپ نے گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک وائرل ویڈیو دیکھی ہوگی جس میں ہسپتال کے بیڈ پر مریض لیٹا ہے اور ڈاکٹر اس کے ساتھ مار پیٹ کر رہا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ وائرل ویڈیو انڈیا کے اندرا گاندھی میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال (آئی جی ایم سی) شملہ کی ہے اور اس میں موجود ڈاکٹر پلمونری میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینئر ریزیڈنٹ ہیں۔

پیر کے ڈاکٹر کو مریض پر تشدد کرنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مریض کے تیمارداروں اور اہلِ خانہ نے احتجاج کیا تھا، جبکہ پولیس نے ڈاکٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
ویڈیو بظاہر مریض کے کسی تیماردار نے بنائی تھی اور اس میں مبینہ طور پر 31 سالہ ڈاکٹر راگھو نارولا کو 36 سالہ ارجن پنوار پر شدید مکے برساتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک دوسرا ڈاکٹر اسے ٹانگوں سے پکڑ کر روکنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔ مریض بھی بستر پر لیٹے ہوئے اپنے دفاع میں ٹانگوں سے وار کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ تشدد کے نتیجے میں ارجن پنوار کی ناک سے خون بہنے لگا۔
ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی پنوار کے رشتہ دار اور دوست جو ضلع شملہ کی کپوی سب ڈویژن کے گاؤں ماشود سے تعلق رکھتے ہیں، آئی جی ایم سی پہنچے اور ملزم ڈاکٹر کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
وزیراعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو کی ہدایت پر ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
آئی جی ایم سی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راہل راؤ نے بتایا 'کمیٹی کی رپورٹ جمع کرانے کے بعد ریاستی حکومت نے ملزم ڈاکٹر کو تاحکمِ ثانی معطل کر دیا ہے۔ مزید تحقیقات کے لیے جلد ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔
ارجن پنوار کے مطابق وہ پیر کی صبح سانس میں دقت کی شکایت پر برونکوسکوپی ٹیسٹ کے لیے ہسپتال آئے تھے۔
انہوں نے بتایا 'ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹروں کے مشورے پر میں پلمونری وارڈ میں ایک خالی بستر پر کچھ دیر آرام کر رہا تھا۔ اسی دوران ڈاکٹر راگھو آئے اور مجھ سے سخت لہجے میں پوچھ گچھ شروع کر دی کہ میں وہاں کیا کر رہا ہوں اور میری میڈیکل رپورٹس کہاں ہیں۔ جب میں نے کہا کہ کیا آپ اپنے گھر والوں سے بھی ایسے بات کرتے ہیں؟ تو وہ غصے میں آ گئے اور مجھے مارنا شروع کر دیا۔
ہماچل پردیش کے وزیرِ صحت دھنی رام شاندل نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ڈاکٹر کے خلاف مثال قائم کرنے والی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا، 'ڈاکٹر راگھو کنٹریکٹ پر تعینات ہیں اور اگست سے آئی جی ایم سی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی ہدایات جاری کی جائیں گی۔'
دوسرے ڈاکٹر کے کردار سے متعلق سوال پر وزیرِ صحت نے کہا کہ واقعے کے وقت وارڈ میں موجود طبی عملے کے ممکنہ کردار کی جانچ کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

شیئر: