سعودی سفیر کا بیان مثبت اشارہ ہے ،ایرانی دفتر خارجہ

ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے جنگ یمن سے متعلق اقوام متحدہ میں سعودی سفیر کے بیان پر مثبت ردعمل دیا ہے۔ تہران میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا  کہ’’ایران یمن میں جنگ کے خاتمے سے متعلق سعودی سفیر کے بیان کو مثبت اشارہ کے طور پر لے رہا ہے کیونکہ ایران مسلم ممالک کے باہمی مسائل اور خطے کے ممالک کے تنازعات پیشگی شرائط کے بغیر مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی دعوت بار بار دے چکا ہے ۔‘‘
ایرانی عہدیدار  کے مطابق تہران  مسلم ممالک کے درمیان قربت کے رشتوں کا خیر مقدم کرتا ہے ۔ایران کا موقف ہے کہ مسلم ممالک بڑے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں اور ہمارے دشمن مشترک ہیں ۔
ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عظیم مفادات حاصل کرنے کیلئے خطے کے ممالک کو اپنے اختلافات پسِ پشت ڈالنا ہوں گے ۔ ایسا کر کے ہی علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کو سہارا ملے گا ۔
 عباس موسوی نے کہا کہ اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ہی غیر ممالک کو مسلم ممالک کے درمیان خلیج سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکا جا سکے گا ۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ میں متعین سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے عرب گروپ کے نمائندے کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعاون کے رشتے استوار کرانے کیلئے تیار ہے ۔ اگر ایران حسن ہمسائیگی کے اصول اور پڑوسی ممالک کے اندرونی امور میں عدم مداخلت کی پابندی کرے تو ایسی حالت میں عرب اس کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے ۔

سعودی میڈیا کے مطابق المعلمی نے کہا تھا کہ ایران خطے میں مسلسل منفی رویہ اختیار کئے ہوئے ہے ۔ اس سے عالمی امن و سلامتی سبوتاژ ہونے  کے سوا کوئی اور نتیجہ نہیں نکلے گا۔
’ حوثیوں کی کھلم کھلا مدد کر کے ایران علاقائی امن اور عالمی جہاز رانی کو خطرات لاحق کر رہا ہے ۔اس سے خطے کے شہریوں کی سلامتی بھی متاثر ہو رہی ہے‘۔
المعلمی نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں، تجارتی جہازوں پر حملوں اور ان پر قبضہ کرنے سے ایران کو روکنے کیلئے عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کی خاطر اپنا کردار ادا کرے۔
سعودی سفیر نے  کہا کہ ہم خطے میں امن و استحکام کی بحالی کیلئے کوشاں ہیں ۔ اسے کامیاب بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک حسن ہمسائیگی کا احترام کریں، طاقت استعمال کریں  اورنہ اس کی دھمکی دیں۔پڑوسی ممالک کے اندرونی امور میں مداخلت اور ان کی خود مختاری پامال کرنے سے گریز کریں۔ایران کا رویہ ان اصولوں کے منافی ہے اور اعتبار کے تقاضوں کو سبوتاژ کئے ہوئے ہے۔
المعلمی نے واضح کیا کہ مسلسل 5برس تک صنعاء کے ریاستی اداروں پرایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے کنٹرول نے دہشتگردی کو فروغ دیا ہے۔حوثی بین الاقوانی انسانی امداد اور ریاستی وسائل پر قبضے کو مذاکرات میں ہتھیار بنائے ہوئے ہیں۔انہوںنے زور دیکر کہا کہ یمنی بحران کا حل خلیجی فارمولے کے مطابق سیاسی مکالمے میں مضمر ہے ۔
 

شیئر: