'غیر ہندو' سے کھانا نہ لینے پر بحث

زوماٹو انڈیا نے امیت شکل کو جواب دیتے ہوئے کہا 'کھانے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ خود مذہب ہے'۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈیا میں غیر ہندو رائیڈر کے ذریعے بھیجا گیا آرڈر وصول کرنے سے انکار کرنے اور اپنے اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے صارف کے اقدام پر سوشل میڈیا نے جہاں ناراضگی کا اظہار کیا وہیں خاصی تعداد نے فیصلے کی حمایت بھی کی ہے۔
امیت شکل نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ زوماٹو کو دیا گیا آرڈر اس لیے کینسل کیا کہ انہوں نے ایک غیر ہندو رائیڈر کو انکا کھانا بھیجنے پر مامور کیا تھا، ادارے نے رائیڈر کو بدلنے سے انکار کرتے ہوئے آرڈر کینسل کرنے پر رقم واپس کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ ’میں نے انہیں کہا کہ آپ مجھے یہ آرڈر وصول کرنے کا پابند نہیں کر سکتے، ری فنڈ بھی نہ کریں صرف کینسل کر دیں'۔
واضح رہے کہ زوماٹو انڈیا کے ریستورانوں کی ایک جامع ویبسائٹ ہے۔
اس ٹویٹ کے بعد دیگر تفصیلات جاری کرتے ہوئے امیت شکل نے لکھا کہ زوماٹو ہمیں ان لوگوں سے آرڈر وصول کرنے کا پابند کرنا چاہ رہا ہے جن سے ہم وصول نہیں کرنا چاہتے، وہ ری فنڈ نہیں کرتے نا ہی تعاون کرتے ہیں۔ ’میں اس ایپلیکیشن کو ختم کر رہا ہوں اور معاملے پر اپنے وکلاء سے بھی بات کروں گا۔‘
ایک الگ پیغام میں غیر ہندو رائیڈر کی تفصیل شیئر کرتے ہوئے امیت شکل نے بتایا کہ روپالی ریستوران کی جانب سے فیاض نامی رائیڈر آرڈر پہنچانے پر مامور کیا گیا تھا۔
امیت شکل کے اقدام پر ردعمل ظاہر کرنے والوں میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جنہوں نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
سائرہ شاہ نامی ایک صارف نے لکھا کہ کوئی پولیس کو بتائے گا کہ یہ صاحب دیگر کمیونیٹیز کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ دوران پرواز جہاز کا پائلٹ مسلمان ہو تو انہیں فضا سے چھلانگ لگا دینی چاہیے۔
فوڈ ڈیلیوری سروس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فرد کو بلاک کر دیں اور اس کی درخواست قبول نہ کریں۔
کھانے کے آرڈر، مسلم رائیڈر کی وجہ سے اسے کینسل کرنے اور پھر اپنے اقدام کو سوشل میڈیا پر مشتہر کرنے پر بحث جاری تھی کہ زوماٹو انڈیا کے آفیشل اکاؤنٹ سے امیت شکل کو جواب دیتے ہوئے کہا گیا 'کھانے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ خود مذہب ہے'۔
فوڈ ایپلیکیشن کے اس جواب پر تنقید بھی کی گئی تاہم خاصی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جنہوں نے اس جواب کو سراہا۔ زوماٹو کے بانی دیپیندر گوئل نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے لکھا 'ہم انڈیا کے آئیڈیا اور اپنے صارفین، پاٹنرز کے تنوع پر فخر کرتے ہیں، ہمیں اپنی اقدار کے راستے میں آڑے آنے والے کاروبار کے نقصان پر کوئی افسوس نہیں'۔

برکھا دت نامی انڈین صحافی اور مصنفہ سمیت متعدد لوگوں نے دیپندر اور ان کے ادارے کو سراہتے ہوئے ان کے موقف کی تائید کی۔ ایسے لوگ بھی گفتگو کا حصہ بنے جو زوماٹو اور اس کے بانی کے موقف سے متفق نہیں تھے، اے ہندو نامی ہینڈل نے لکھا کہ وہ زوماٹو کا بائیکاٹ کریں گے۔
آرجے اور وی جے رہنے والی ریا نامی ٹوئٹر صارف نے زوماٹو کے اقدام پر فوڈ ایپلیکیشن کو سراہا اور لکھا 'ایسے لوگوں کو سبق سکھانا چاہیے، انڈینز کو کوئی بھی ذات کی بنیاد پر تقسیم نہیں کر سکتا، سنگھیز تعداد میں بڑھے ہیں لیکن اگر ہم برطانویوں کو برت سکتے ہیں تو ان کا سامنا بھی کر لیں گے۔‘

 

شیئر: