فاسٹ ٹریک کو پیدل عبور کرنا خودکشی کے مترادف 

ابوظبی میں ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ شاہراؤں اور فاسٹ ٹریک پر ممنوع مقامات سے پیدل سڑک عبور کر نا انتہائی خطرناک ہو تا ہے۔
بعض اوقات رونما ہونے والے حادثات جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔ ان پر خطر مقامات سے سڑک عبور کرنے والے خودکشی کرنے کے مترادف ہوتے ہیں اس بارے میں دیت کے قانون پر نظر ثانی کی جائے تاکہ فریقین  کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔
ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ جب پیدل سڑک عبور کرنے والوں کے لیے زیبرا کراسنگ، اوور ہیڈ پل اور انڈرپاس کراسنگ بنائی گئی ہیں تو انہیں یہ اجازت نہیں دی جانی چاہیے وہ خود کو اوردوسروں کو مشکلات میں مبتلا کریں۔
امارات ٹو ڈے نے اس حوالے سے ڈرائیوروں سے سروے کیا جنہوں نے فاسٹ ٹریک کو غلط انداز سے عبور کرنے والوں کے عمل کو خودکشی کے مترادف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حادثات کی صورت میں رونما ہونے والی ہلاکتوں پر ڈرائیور پر عائد کی جانے والی دیت کے قانون کو تبدیل کیاجائے کیونکہ اس طرح کے حادثے میں زیادہ تر قصور پیدل سڑک عبور کرنے والے کا ہوتا ہے جو سڑک کے اطراف لگی باڑ اور رکاوٹوں کو غیر قانونی طور پر عبور کرکے فاسٹ ٹریک میں داخل ہوتا ہے۔

اس ضمن میں قانون دان علی العبادی کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ایسے حادثات میں متاثرین کی دیت کا حق ساقط ہو جاتا ہے کیونکہ پیدل سڑ ک عبور کرنے والے نے قانون کی خلاف ورزی کی اور زیبرا کراسنگ سے روڑ کراس نہیں کی تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ گاڑی چلانے والا قطعی طور پر بری الذمہ ہو گیا بلکہ ڈرائیور پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حادثے کے وقت ڈرائیور کا رویہ ، گاڑی کی رفتار اور دیگر امور پر بھی غور کیا جاتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص گاڑی چلا رہا ہو اور اطراف سے قطعی طور پر بے فکر ہو جائے قانون میں دونوں فریقوں کا خیال رکھا گیا ہے۔
 ڈرائیوروں کی جانب سے یہ مطالبہ اسے وقت میں سامنے آیا جب ٹریفک پولیس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ویڈیو ریلیز کی گئی جس میں فاسٹ ٹریک پر زیبرا کراسنگ کی خلا ف ورزی کرتے ہوئے چند افراد کو انتہائی خطرناک انداز میں سڑک عبور کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
ابوظبی ٹریفک پولیس نے ویڈیو میں یہ پیغام بھی دیا تھا کہ اپنی اور دیگر افراد کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں، شاہراؤں پر  اوورہیڈ پل اور انڈر پاس  پیدل چلنے والوں کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں ان کا استعمال ہر ایک پر لازم ہے۔ ٹریفک پولیس نے انتباہی پیغام میں مزید کہا کہ روڈ کراس کرتے ہوئے موبائل فون پر مصروف رہنا ہلاکت کو دعوت دینے کے مترادف ہے اس عمل سے اجتناب برتیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کے مطابق زیبرا کراسنگ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ممنوعہ مقامات سے پیدل سڑک عبور کرنا بھی ٹریفک خلا ف ورزی میں آتا ہے جس پر باقاعدہ چالان کیاجاتا ہے۔
اس حوالے سے ٹریفک پولیس کی جانب سے آگاہی مہم وقتا فوقتا کی جاتی ہے تاکہ لوگ اس عمل سے اجتناب کریں ۔ سروے میں شامل ڈرائیوروں نے مطالبہ کیا کہ فاسٹ ٹریک پر لگائی جانے والی باڑ کو مزید بلند کیا جائے تاکہ انہیں پیدل کراس کرنا ممکن نہ ہو اور لوگ زیبرا کراسنگ کا استعمال کریں ۔
قانون دان العبادی نے اس حوالے سے کہا کہ قانون میں ایسا نہیں ہے کہ تمام ترذمہ داری ڈرائیور پر ہی عائد کی جاتی ہے ہمارے سامنے ایسی مثالیں بھی ہیں جب پیدل سڑک عبور کرنے والا حادثے کا شکار ہو کر ہلاک ہو گیا جس پر عدالت نے  تفصیلات حاصل کیں جن میں  ڈرائیور کا رویہ اور حادثے کے وقت گاڑی کی رفتا ر کا ریکارڈ  دیکھ کر اسے بری کر دیا۔

زیبرا کراسنگ کی خلاف ورزی کرنیوالوں پر جرمانے 

اماراتی وزارت داخلہ نے ممنوع مقامات سے شاہراہوں کو عبور کرنے والوں پر عائد کیے جانے والے جرمانے کی رقم 200 درھم سے بڑھا کر 400 درہم کر دی ہے تاکہ اس رحجان کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اس ضمن میں ٹریفک قانون کی شق نمبر 89  میں کہا گیا ہے کہ  پیدل چلنے والے کراسنگ کے قانون پر عمل کریں ممنوعہ مقامات سے سڑک عبور کر نے والوں پر چار سو درھم جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
قانون کے مطابق وہ ڈرائیور جو  پیدل چلنے والوں کے لیے لگائے گئے ٹریفک سگنل کی پرواہ نہیں کرتے ان پر بھی اتنا ہی جرمانہ عائد کیاجاتا ہے۔ 

شیئر: