'آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے'

آواز کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ آواز اگر زنانہ ہو تو مرد کے لئے اور بھی پرکشش ہو جاتی ہے۔ اردو کے شاعر ضمیر نیازی نے شاید ایسے ہی موقعے کے لیے کہا تھا:
’آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے‘
لیکن جب آواز دے کر دیکھا تو یہ صورت حال بنی:
'ہوش اڑ جاتے ہیں اب بھی تری آواز کے ساتھ'۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران سندھ کے بالائی اضلاع میں موبائل فون پر خواتین سے دوستی اور ڈیٹ مارنے کے چکرمیں دو درجن سے زائد افراد اغوا ہو چکے ہیں۔
ایک ہفتہ قبل امریکہ کی ریاست پنسلوینیہ میں چار بینک لوٹنے والی 35 سالہ خاتون کیرکی بائیز کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا تھا۔ چند عشرے پہلے بھارت کی پھولن دیوی ڈاکو رانی کے طور پر مشہور ہوئی۔
سندھ  میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں نئی بات نہیں، لیکن ان وارداتوں میں خواتین کا ملوث ہونا نئی بات ہے۔ خیال ہے کہ یہ خواتین ڈاکوؤں کی ساتھی یا اہل خانہ ہیں کیونکہ کچے میں کئی ڈاکو اپنی بستیاں بنا کر اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔
اغوا برائے تاوان کے لئے کسی کو گھر یا سڑک سے اٹھانا اب پرانی بات ہو گئی ہے۔ اب نئی ٹیکنالوجی نے ڈاکوؤں کا طریقہ واردات بھی بدل دیا ہے۔

 سکھر کے چچا زاد بھائی لیاقت علی اور گلزار زنانہ آواز کے چکر میں اغوا ہوئے اور 40 لاکھ روپے تاوان دے کر رہائی پائی

خواتین سے دوستی کرنے کا جھانسہ اب نیا طریقہ واردات بن گیا ہے۔ گذشتہ چھ ماہ کے دوران قریباً دو درجن مرد خواتین سے دوستی کرنے کے چکر میں جرائم پیشہ افراد کے پاس خود کو قید کرا چکے ہیں۔ کسی نے عورت سے محبت کی قید مانگی تھی، لیکن اسے ڈاکوؤں کی قید نصیب ہوئی، یہاں سے رہائی تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی ممکن ہو سکی۔
جھانسے کا شکار افراد کا کہنا ہے کہ یہ خواتین پیار محبت کی باتیں کرتی اور اپنی آواز کے ذریعے جنسی کشش پیدا کرتی ہیں۔  
طریقہ واردات کچھ اس طرح سے ہے کہ کوئی خاتون موبائل فون کے ذریعے ٹارگٹ کئے گئے مرد کو دوستی کی پیش کش کرتی ہے۔ کئی روز تک بات چیت کے دوران شکار ہونے والے شخص سے عزیز رشتہ داروں، ملکیت اور پیشے وغیرہ سے متعلق معلومات حاصل کر لی جاتی ہیں۔ باتوں باتوں میں ٹارگٹ کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ کال کرنے والی اس کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہے، لہٰذا اب ملاقات کا وقت آگیا ہے۔
فون پر دوستی پکی کرنے کے بعد شکارکو ڈیٹ کے لئے بلایا جاتا ہے۔ عموماً ملاقات کے لئے بس سٹاپ یا ایسی جگہ پر بلایا جاتا ہے جہاں سے شکار کو باآسانی کچے کے علاقے میں منتقل کیا جا سکے۔ بعد میں شکار ہونے والے کے ہی موبائل نمبر سے اس کے گھر والوں کو فون کر کے تاوان طلب کیا جاتا ہے۔
گذشتہ چھ ماہ میں سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنوں میں اب تک عورت سے دوستی کے 24 شوقین اس طریقہ واردات کے تحت اغوا ہو چکے ہیں۔ بعض واقعات میں پولیس یا رشتہ داروں کی بروقت مدد ملنے پر ایسے شوقین اغوا ہونے سے بچ گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زنانہ آواز پر کچے پہنچنے والے 14 افراد کو اغوا ہونے سے بچا لیا گیا 

سکھر کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ فون کال کرنے والی سب خواتین نہیں ہوتیں۔ زنانہ آواز نکالنے کے ماہر بعض مرد بھی یہ کام کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض موبائل سیٹس میں آواز کو مردانہ، زنانہ یا بچگانہ بنانے کے آپشنز بھی ہوتے ہیں جنہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ کم از کم 30 فیصد واقعات میں خواتین کی اصلی آواز کا پتہ چلا ہے جس میں سے بعض واقعات کی پولیس نے بھی تصدیق کی ہے۔
ایڈیشنل آئی جی سکھر ڈاکٹر جمیل احمد کے مطابق ملزمان اپنی بیویوں، بہنوں یا دوسری عورتوں سے فون کرواتے ہیں جبکہ بعض مرد بھی زنانہ آواز نکالنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ انہیں سندھ یا پنجاب کے علاقوں سے کندھ کوٹ یا کشمور کے علاقوں میں بلا کر یرغمال بنا لیا جاتا ہے۔
لالو شیخ زنانہ آواز کے ذریعے شکار پھانسنے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ رواں سال مئی میں وہ مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔
پولیس کے مطابق 14 افراد کو شکار ہونے سے بچا لیا گیا جو خواتین کی آواز پر پھنس کرکچے میں پہنچ چکے تھے جبکہ چھ افراد اغوا ہو چکے تھے جنہیں پولیس نے بہتر حکمت عملی کے ذریعے بچا لیا۔
 سکھر سے لیاقت علی اور گلزار پر بھی زنانہ آواز کا جادو چل گیا۔ دونوں چچازاد نوجوان شہر کے سٹی پوائنٹ کے قریب گاڑیاں صاف کرتے تھے۔ ان کے ورثاء کا کہنا ہے کہ ان سے 40 لاکھ روپے تاوان طلب کیا گیا تھا لیکن بعد میں کم رقم میں ڈیل ہو گئی۔
فیض گنج ضلع خیرپورکے رہائشی 23 سالہ ماجد راجپرموبائل فون پر پیار کے جھانسے میں آ کر اغوا ہو گیا۔ موبائل فون پر جب تاوان کا مطالبہ کیا گیا تو پولیس کے مطابق فون کی لوکیشن کشمور ٹریس ہوئی۔
مارچ میں ڈہرکی ریلوے کالونی سے اغوا ہونے والے جان محمد سمیجو نے بازیابی کے بعد بتایا کہ ایک عورت نے جھانسہ دے کر اسے لکھی غلام شاہ کے قریب بلایا، جہاں سے موٹرسائیکل سوار اسے اغوا کر کے لے گئے۔ ملزمان اس سے تاوان کی رقم کے لئے مار پیٹ بھی کرتے رہے۔

ڈہرکی کے جان محمد سمیجو پر بھی زنانہ آواز کا جادو چل گیا اور وہ خود کو اغوا کرا بیٹھے

جان محمد یہ کہہ کر گھر سے نکلا تھا کہ دوست سے ملنے سکھر جا رہا ہوں۔ اس کے بعد اس کا موبائل فون بند ہو گیا۔ کچھ روز بعد اس کے موبائل نمبر سے کال آئی۔ فون پر پہلے بھائی نے اور بعد میں اغوا کرنے والے شخص نے بات کی اور کہا کہ تاوان کی رقم کا بندوبست کرو ورنہ گھر پرلاش کا انتظار کرو۔
شکارپور کے چک کے علاقے سے خالد مہر اور ندیم مہر تاوان ادا کر کے تین ماہ بعد بازیاب ہوئے۔ پولیس کے مطابق کچھ پنچائتی فیصلہ اورکچھ پولیس کا دباؤ نوجوان کی بازیابی کا باعث بنا۔
جولائی کے آخری ہفتے میں خانپور کے قریب پنوعاقل کے دو رہائشیوں کو پولیس نے بروقت اطلاع ملنے پر بچا لیا۔ پولیس کے مطابق  ایس ایس پی نے اطلاع دی کہ دو افراد عمران میر بحراور حسن علی دور کی آواز کے جادو میں پھنس کر کچے کی طرف جا رہے ہیں۔ پولیس نے موٹرسائیکل سواروں کو روکا، پوچھ گچھ پر معلوم ہوا کہ وہ اپنی دوست عورتوں سے ملنے جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چار روز سے ان عورتوں سے موبائل فون پر رابطے میں ہیں اور اب ان سے ملنے جا رہے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران آٹھ افراد کو اغوا ہونے سے بچا لیا گیا ہے۔
گھوٹکی کے قریب ایک گاؤں کے رہائشی 18 سالہ اسد انڈھڑکو بھی کسی' حسین' نے آواز دی اور وہ اغوا ہو گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ انوکھی نوعیت کا پہلا واقعہ دو سال قبل اوباڑو کے قریب ہوا تھا جس میں سندھ سیکرٹریٹ کے ایک افسر اغوا ہو گئے تھے۔
ڈاکٹر جمیل احمد کا ماننا ہے کہ صرف دیہاتی یا کم پڑھے لکھے لوگ ہی شکار نہیں ہوتے، سندھ اور پنجاب میں اچھے عہدوں پر فائز لوگ بھی اس چکر میں پھنس جاتے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی پولیس ڈاکٹر جمیل احمد کے مطابق عوام کی آگاہی کے لئے بس سٹاپوں، بائی پاسوں اور دیگر عوامی مقامات پر بینرز لگائے گئے ہیں۔

شیئر: