کیا چترال میں برفانی تیندوے کی موت طبعی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ کیا کہتی ہے؟
کیا چترال میں برفانی تیندوے کی موت طبعی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ کیا کہتی ہے؟
منگل 20 جنوری 2026 15:23
فیاض احمد، اردو نیوز۔ پشاور
محکمۂ جنگلی حیات چترال کے مطابق تیندوے کی لاش گرم چشمہ کے نواحی علاقے سے ملی۔ فوٹو: محکمہ وائلڈ لائف
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر چترال کے علاقے گرم چشمہ سے نایاب برفانی تیندوے (سنو لیپرڈ) کی لاش ملی ہے۔
محکمۂ جنگلی حیات چترال کے مطابق گرم چشمہ کے نواحی علاقے وحت میں ایک نالے سے برفانی چیتے کی لاش ملی ہے۔ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے اطلاع موصول ہوتے ہی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔
وائلڈ لائف اور ڈاکٹروں کی ٹیم نے لاش کا بغور معائنہ کیا۔ ابتدائی مشاہدے میں تیندوے کے جسم پر کسی قسم کے زخم یا چوٹ کے نشان دکھائی نہیں دیے تاہم موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
وائلڈ لائف کے نگران واچر کے مطابق برفانی تیندوے کی لاش برف سے ڈھکے ایک برساتی نالے میں پڑی تھی۔ لاش کی حالت سے لگ رہا تھا کہ اس کی کچھ دن پہلے ہی موت ہوئی ہے۔
ڈی ایف او چترال فاروق نبی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق برفانی تیندوے کی موت کی وجہ طبعی ہے۔ جنگلی جانور کے جسم پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں ملے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’سنو لیپرڈ کے دانتوں سے اس کی عمر کا اندازہ لگا لیا گیا ہے۔ جانور کی عمر 12 سال ہے اور اس عمر میں یہ تیندوے شکار کے قابل نہیں رہتے چنانچہ ان کی موت ہو جاتی ہے۔‘
ڈی ایف او جنگلی حیات لوئر چترال فاروق نبی کا کہنا تھا کہ ’چترال میں سنو لیپرڈز کی مجموعی تعداد 28 سے 32 کے قریب ہے جن کے تحفظ کے لیے محکمہ وائلڈ لائف تمام تر اقدامات کر رہا ہے۔‘
تیندوے کے جسم پر کسی قسم کے زخم یا چوٹ کے نشان دکھائی نہیں دیے۔ فوٹو: محکمہ وائلڈ لائف
سنو لیپرڈ کیا ہے؟
سنو لیپرڈ جسے برفانی تیندوا بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے نایاب ترین جنگلی جانوروں میں شمار ہوتا ہے جو برف سے ڈھکی بلند چوٹیوں کو اپنا مسکن بناتا ہے۔ یہ نایاب تیندوے جنگلی بھیڑ بکریوں، مارخور اور خرگوش کا شکار کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایک ماہ قبل گرم چشمہ کے آبادی والے علاقے میں برفانی تیندوےکو دیکھا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق جنگلی جانور پہاڑوں سے نیچے اتر کر آبادی میں گھس آیا تھا تاہم لوگوں نے اسے نقصان نہیں پہنچایا۔