پنجاب میں ’چالان کا ہدف‘، اعلٰی افسران کو بھیجے گئے لیگل نوٹس میں کیا ہے؟
پنجاب میں ’چالان کا ہدف‘، اعلٰی افسران کو بھیجے گئے لیگل نوٹس میں کیا ہے؟
منگل 20 جنوری 2026 16:09
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
پولیس ترجمان کے مطابق ٹریفک کی روانی کو سیف سٹی کیمروں سے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گزشتہ چند ماہ کے دوران ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے نام پر اختیار کی گئی غیرمعمولی سختیوں نے جہاں سڑکوں پر نظم و ضبط کو کسی حد تک بہتر کیا ہے وہیں اس پالیسی کے پس پردہ مقاصد پر ایک سنجیدہ بحث بھی جنم لے چکی ہے۔
لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان سمیت صوبے کے بڑے شہروں میں ٹریفک پولیس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں چالان کیے جانے کے بعد شہری حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا تھا کہ یہ کارروائیاں محض ٹریفک اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے سرکاری خزانے کے لیے ریونیو اکٹھا کرنے پر بھی غیراعلانیہ توجہ دی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر آئے دن ایسی ویڈیوز، پوسٹیں اور بیانات سامنے آتے رہے جن میں یہ الزام دہرایا جاتا رہا کہ ٹریفک وارڈنز کو مخصوص تعداد میں چالان کرنے کا ہدف دیا جاتا ہے تاہم یہ تمام دعوے عوامی شکایات اور قیاس آرائیوں تک ہی محدود تھے۔
پنجاب ٹریفک پولیس کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران صوبہ بھر میں ایک کروڑ 25 لاکھ سے زائد ٹریفک چالان کیے گئے جبکہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ٹریفک قوانین کے نفاذ میں مجموعی طور پر 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق موٹرسائیکل سواروں کے خلاف 60 لاکھ 55 ہزار سے زائد چالان کیے گئے جبکہ بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر 21 لاکھ 45 ہزار سے زیادہ کارروائیاں عمل میں آئیں۔ ہیلمٹ کی خلاف ورزی پر 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد چالان کیے گئے، اور اس مد میں کارروائیوں میں 51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب 2025 میں صرف راولپنڈی ٹریفک پولیس نے 11 لاکھ سے زائد چالان جاری کیے اور تقریباً 11 ارب روپے جرمانے وصول کیے جو قومی خزانے میں جمع کرائے گئے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پچھلے سال کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ مؤثر ثابت ہوئیں۔
تاہم جب راولپنڈی میں تعینات ٹریفک پولیس کے ایک وارڈن سید احسن علی شاہ نے اپنے اعلیٰ افسران کو ایک باضابطہ لیگل نوٹس ارسال کیا تو اس معاملے کا دوسرا رُخ سامنے آیا۔ یہ نوٹس ایڈووکیٹ احسن محمود راجہ کے توسط سے چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی کو بھجوایا گیا جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وارڈن کو چالان کا روزانہ ہدف پورا نہ کرنے پر غیرقانونی، غیرمنصفانہ اور بلاجواز سزا دی گئی حالانکہ اس کے خلاف کسی قسم کی بدعنوانی، غفلت یا ڈیوٹی میں کوتاہی ثابت نہیں کی گئی۔
لیگل نوٹس کے متن کے مطابق وارڈن کو گزشتہ ماہ روزانہ 15 چالان کرنے کا ہدف دیا گیا تھا جو بعد ازاں رواں ماہ 12 چالان روزانہ تک محدود کر دیا گیا۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات زبانی نوعیت کی تھیں اور اس حوالے سے نہ کوئی تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا، نہ کوئی سرکاری نوٹیفکیشن، اور نہ ہی کسی قانونی چینل کے ذریعے وارڈن کو آگاہ کیا گیا۔ یہاں تک کہ وارڈن کو چیف ٹریفک آفیسر کے سامنے پیش ہونے کے لیے بھی کوئی باضابطہ تحریری طلبی نوٹس نہیں دیا گیا۔
ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ٹریفک وارڈنز کو چالان کا ٹارگٹ دینے میں کوئی حقیقت نہیں۔ فائل فوٹو: اے پی پی
لیگل نوٹس کے مطابق چالان کا ہدف پورا نہ ہونے پر وارڈن پر تین مختلف مواقع پر دو، دو ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے جو غیرقانونی اور سروس رولز کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وکیل کے مطابق ٹریفک قوانین یا پولیس سروس رولز میں کہیں بھی روزانہ چالان کے کسی لازمی عددی ہدف کا ذکر موجود نہیں، اس لیے اس بنیاد پر سزا دینا آئینی اور قانونی اصولوں کے منافی ہے۔
لیگل نوٹس میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ ٹریفک قوانین کے تحت چالان صرف اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شہری کی جانب سے واضح اور قابلِ مشاہدہ خلاف ورزی سرزد ہو۔ نوٹس کے مطابق حالیہ سختیوں کے بعد شہری بڑی حد تک ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ اور ٹریفک سگنلز کی پابندی کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں خلاف ورزیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایسے میں چالان کے مواقع کم ہونا وارڈن کی ناکامی نہیں بلکہ ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد کی علامت ہے، اور اس کمی کو وارڈن کے خلاف تادیبی کارروائی کی بنیاد بنانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض سینیئر افسران کی جانب سے وارڈن کو مسلسل ذہنی دباؤ، ہراسانی، تضحیک اور دھمکیوں کا سامنا رہا، تاکہ اسے غیرقانونی طور پر زیادہ سے زیادہ چالان کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ نوٹس کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے بلکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 اور 14 کی بھی صریح خلاف ورزی ہے جو ہر شہری اور سرکاری ملازم کو قانون کے مطابق سلوک اور انسانی وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ پورے ٹریفک انفورسمنٹ سسٹم پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق ٹریفک پولیس کا بنیادی مقصد شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور حادثات میں کمی ہے، جبکہ ریونیو اکٹھا کرنا محکمۂ ایکسائز یا فنانس ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر چالان کو آمدن کا ذریعہ بنا دیا جائے تو اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ خود اہلکار بھی اخلاقی اور پیشہ ورانہ دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
لیگل نوٹس کے مطابق چالان کا ہدف پورا نہ ہونے پر وارڈن پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ فائل فوٹو: اے پی پی
ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ٹریفک وارڈنز کو چالان کا ٹارگٹ دینے میں کوئی حقیقت نہیں، ٹریفک کی روانی کو سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ سیف سٹی کیمروں میں ٹریفک وائلیشنز ریکارڈ ہوتی ہیں اور جن علاقوں میں ٹریفک وائلیشنز پر کارروائی نہیں ہوتی، ان علاقوں میں متعلقہ عملے کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
’ماسٹر کنٹرول روم سے خلاف ورزیوں کی فہرست بھیجی جاتی ہے، جہاں جہاں ٹریفک وارڈنز کی غفلت سامنے آتی ہے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ ناقص کارکردگی پر 214 وارڈنز کو سزائیں جبکہ کرپشن پر تین وارڈنز نوکری سے برخاست کیے گئے ہیں، فرائض کی بہترین ادائیگی پر ایک ہزار 23 وارڈنز کو انعامات دیے گئے ہیں۔‘
نومبر 2025 میں پنجاب حکومت نے ٹریفک قوانین کے حوالے سے ایک آرڈیننس بھی جاری کیا تھا جس میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی منظوری دی گئی تھی جس کے نفاذ کے بعد ایک ہی دن میں ہزاروں افراد پر کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ سینکڑوں گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں جس کے بعد اس آرڈیننس پر عمل جزوی طور پر روک دیا گیا۔