Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی طیاروں کو ’کامبیٹ ٹیسٹڈ‘ کا ٹیگ، ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ

پاکستانی ساختہ جنگی طیاروں، ڈرونز اور میزائل سسٹمز کو پہلی بار بڑے پیمانے پر میدانِ جنگ میں آزمایا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی دفاعی پیداوار کی صنعت گذشتہ سال انڈیا کے ساتھ ہونے والی کشیدگی کے دوران عملی جنگی آزمائش کے بعد غیرمعمولی طور پر عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
پاکستانی ساختہ جنگی طیاروں، ڈرونز اور میزائل سسٹمز کو پہلی بار بڑے پیمانے پر میدانِ جنگ میں آزمایا گیا، جس کے بعد انہیں ’کامبیٹ ٹیسٹڈ‘ یعنی عملی جنگی صلاحیت کا درجہ حاصل ہوا، جس نے کئی ممالک کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان نے 13 ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر بات چیت کی ہے جن میں سے 6 سے 8 ممالک کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان معاہدوں میں مشترکہ طور پر چین کے ساتھ تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیارے، تربیتی طیارے، بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) اور جدید اسلحہ شامل ہے۔
وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے تصدیق کی ہے کہ کئی ممالک پاکستانی عسکری ساز و سامان میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں، تاہم معاہدوں کی تفصیلات کو ’محفوظ راز‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات جاری ہیں مگر بین الاقوامی دباؤ کے باعث کسی بھی مرحلے پر معاہدہ متاثر ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ممالک متبادل دفاعی سپلائرز کی تلاش میں ہیں۔
مئی میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی فضائی جھڑپوں میں پاکستانی فضائیہ نے جے ایف-17 طیاروں کے ساتھ جدید چینی جے-10 طیارے بھی استعمال کیے، جس سے پاکستانی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ ہوا۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ خریدار ممالک میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، مراکش، نائجیریا، ایتھوپیا، سوڈان اور مشرقی لیبیا شامل ہیں۔ خاص طور پر بنگلہ دیش کے ساتھ وسیع دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور اسلحہ فراہمی پر سنجیدہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نسبتاً کم قیمت، تربیتی سہولیات اور آپریشنل لچک پاکستان کو ایک مؤثر درمیانی درجے کا دفاعی ہتھیاروں ایکسپورٹر بنا رہی ہے، خاص طور پر افریقی اور مسلم اکثریتی ممالک کے لیے۔ تاہم چین کے ساتھ شراکت داری اور اقوامِ متحدہ کی پابندیوں جیسے سفارتی چیلنجز مستقبل میں اہم کردار ادا کریں گے۔

 

شیئر: