Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پیرس پر 200فیصد ٹیرف کی دھمکی، صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کے نجی پیغامات پوسٹ کر دیے

فرانسیسی صدر کے قریبی ذرائع نے کہا تھا کہ وہ غزہ کے لیے بورڈ میں شامل نہیں ہوں گے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی مشروبات پر 200 فیصد محصولات یا ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
امریکی صدر کا یہ ردعمل اس خبر کے بعد سامنے آیا جس میں بتایا گیا تھا کہ فرانس کے صدر ٹرمپ کے غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت کو مسترد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں گرین لینڈ کے حوالے سے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کی جانب سے موصول ہونے والے نجی پیغام کو بھی شیئر کیا۔
فرانس کے خلاف صدر ٹرمپ کھُل کر اس وقت سامنے آئے جب پیرس نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے گرین لینڈ کو قبضے میں لینے کے لیے پیش کیے جواز کا مذاق اُڑایا۔

ٹرمپ نے کیا کہا؟

صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں اس کی شرابوں اور شیمپینز پر 200 فیصد ٹیرف لگاؤں گا۔ اور وہ شمولیت اختیار کر لے گا۔ لیکن اس کو شامل ہونے کی ضرورت نہیں۔‘
امریکہ کے تجویز کردہ بورڈ کا تصور اصل میں جنگ زدہ غزہ کی تعمیرنو کی نگرانی کے لیے کیا گیا تھا، لیکن اس کا چارٹر اس کے کردار کو مقبوضہ فلسطینی سرزمین تک محدود نہیں کرتا۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے میکخواں کا ایک نجی پیغام پوسٹ کیا، جہاں فرانسیسی صدر نے ٹرمپ کو بتایا کہ دونوں رہنما ایران اور شام کے مسائل پر متفق ہیں لیکن انہیں بتایا کہ وہ ’سمجھ نہیں پا‘ رہے کہ صدر ٹرمپ ’گرین لینڈ پر کیا کر رہے ہیں؟‘
پیغام میں فرانسیسی صدر نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر صدر ٹرمپ اور جی7 ملکوں کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی پیشکش کی، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ یوکرینی، ڈنمارک، شامی اور روسی رہنماؤں کو بھی مدعو کر سکتے ہیں۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کو جمعرات کو ڈنر پر باہر لے جانے کی پیشکش بھی کی۔

فرانس نے صدر ٹرمپ کے گرین لینڈ پر مؤقف کا مذاق اڑایا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

گرین لینڈ پر امریکہ کا مذاق؟

فرانس نے صدر ٹرمپ کے گرین لینڈ پر مؤقف کا مذاق اڑایا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں فرانس کی وزارت برائے یورپ اور خارجہ امور کے آفیشل اکاؤنٹ نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے صدر ٹرمپ کے اقدام کے لیے پیش کیے گئے جواز کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ ’اگر کسی دن آگ لگ جاتی تو فائر فائٹرز مداخلت کریں گے- لہذا بہتر ہے کہ ابھی گھر کو جلا دیا جائے۔‘
امریکی وزیر خزانہ نے ٹرمپ کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ 79 سالہ صدر کی توجہ آرکٹک کے علاقے میں روس سے مستقبل کے خطرات پر مرکوز ہے۔
’آگے جا کر آرکٹک کے لیے یہ لڑائی حقیقی ہے، ہم اپنی نیٹو کی ضمانتیں رکھیں گے۔ اور اگر روس کی طرف سے گرین لینڈ پر کسی دوسرے علاقے سے حملہ ہوا، تو ہمیں بالآخر اس میں گھسیٹ لیا جائے گا۔‘

 

شیئر: