ویزا فراڈ، پاکستان سے جعلی ویزوں پر امریکہ بھیجنے والا نیٹ ورک بے نقاب
ویزا فراڈ، پاکستان سے جعلی ویزوں پر امریکہ بھیجنے والا نیٹ ورک بے نقاب
منگل 20 جنوری 2026 14:32
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے (فوٹو: ایف آئی اے)
پاکستان میں امریکی سفارت خانہ نے نان امیگرنٹ ویزا انٹرویو کے دوران جعلی دعوت نامے، فرضی کانفرنس، محکمہ خارجہ پاکستان کے نام سے تیار کردہ مبینہ سرکاری خط اور ایک ہی طرز کی معاون دستاویزات پکڑ کر ایک ایسے ویزا فراڈ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا جو امریکہ جانے کے خواب دکھا کر شہریوں سے لاکھوں روپے بٹور رہا تھا۔
تفصیلات کے مطابق یہ کیس باضابطہ طور پر اس وقت سامنے آیا جب امریکی سفارتخانہ اسلام آباد میں 12 پاکستانی شہری نان امیگرنٹ ویزا انٹرویو کے لیے پیش ہوئے۔ انٹرویو کے دوران سفارتی حکام کو شبہ ہوا کہ درخواست دہندگان کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات غیر معمولی طور پر ایک جیسی ہیں۔
مزید جانچ میں انکشاف ہوا کہ نہ صرف دعوت نامے جعلی ہیں بلکہ جس کانفرنس میں شرکت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ بھی کاغذوں سے باہر کہیں موجود نہیں۔
اس انکشاف کے بعد امریکی سفارتخانے کی اسسٹنٹ ریجنل سکیورٹی آفیسر برائے تفتیشات لنڈا نگوین کی جانب سے تحریری شکایت درج کروائی گئی، جس کی بنیاد پر ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد میں ایف آئی آر درج کی گئی۔
ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق ویزا درخواست دہندگان نے دورانِ انٹرویو خود اعتراف کیا کہ ان کے ویزا انٹرویوز کی بکنگ، دستاویزات کی تیاری اور انٹرویو کی تیاری عثمان گیلانی اور رب نواز نامی ایجنٹس نے کروائی تھی، جنہوں نے اس سہولت کے عوض مجموعی طور پر 30 ہزار امریکی ڈالر وصول کیے۔
امریکی سفارتخانے کی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ مشکوک دستاویزات میں محکمہ خارجہ پاکستان کے نام سے ایک مبینہ خط شامل تھا، جسے جعلی قرار دیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق اس نیٹ ورک کے ذریعے جن 12 افراد کو جعلی دستاویزات کے سہارے امریکہ بھجوانے کی کوشش کی گئی، ان میں بلال حسن، رمشہ زبیر، محمد اسید اقبال، علی رضا، اوئس قمر رانجھا، معظم علی، ارشمان احمد، وقاص اسلم، احسن رضا، محمد ریحان، مدثر نذیر گوندل اور محمد حسین شامل ہیں۔
ان تمام افراد کے پاسپورٹ نمبرز بھی ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے، جبکہ امریکی سفارتخانے نے تمام درخواست دہندگان اور ان کی دستاویزات مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کر دیں۔
ایف آئی آر کے مطابق متاثرین کو ’آرٹ آف لیونگ‘ نامی کمپنی کے جعلی دعوت نامے دیے گئے (فوٹو: اے ایف پی)
ایف آئی اے کی ابتدائی تفتیش میں متاثرہ شہریوں نے بتایا کہ اس پورے نیٹ ورک کا مرکزی کردار الشیخ السید سیف الدین ولد حافظ محمد اسلم المعروف عثمان گیلانی عرف پیر صاحب ہے، جس کا تعلق ضلع سرگودھا کے علاقے کوٹ مومن سے بتایا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق عثمان گیلانی نے خود کو بااثر روابط کا حامل ظاہر کرتے ہوئے متاثرین کو امریکہ کے وزٹ ویزے پر بھجوانے کا جھانسہ دیا اور ہر فرد سے 20 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک کی رقم طے کی۔ کئی متاثرین نے جزوی ادائیگیاں کیں، جبکہ بعض افراد سے مکمل رقوم وصول کی گئیں۔
ایف آئی آر کے مطابق بلال حسن سے 70 لاکھ روپے، رمشہ زبیر سے 45 لاکھ، محمد اسید اقبال سے 60 لاکھ، علی رضا سے 50 لاکھ، اویس قمر رانجھا اور معظم علی سے 45،45 لاکھ روپے طے ہوئے، جبکہ دیگر متاثرین سے بھی لاکھوں روپے کے معاہدے کیے گئے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ عثمان گیلانی اکیلا کام نہیں کر رہا تھا بلکہ اس کے ساتھ رب نواز ولد محمد خان، محمد طاہر شبیر ولد غلام شبیر اور انعام الحق حسن بھی شامل تھے، جو متاثرین کو مختلف مراحل پر جعلی دعوت نامے، جعلی کانفرنس تفصیلات اور مبینہ سرکاری خطوط فراہم کرتے رہے۔
ایف آئی آر کے مطابق متاثرین کو ’آرٹ آف لیونگ‘ نامی کمپنی کے جعلی دعوت نامے دیے گئے، جن میں امریکہ میں 13 سے 15 فروری 2026 کے دوران ’فیسٹیول آف صوفی وزڈم‘ کے انعقاد کا دعویٰ کیا گیا۔
اس پورے انکشاف اور امریکی سفارتخانے کی نشاندہی کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد نے کارروائی کرتے ہوئے اس نیٹ ورک میں شامل رب نواز اور محمد طاہر شبیر کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان شہریوں سے بھاری رقوم وصول کر کے جعلی دستاویزات کے ذریعے امریکہ بھجوانے کی کوششوں میں ملوث تھے، جبکہ گینگ کے دیگر ارکان، جن میں مرکزی ملزم عثمان گیلانی بھی شامل ہے، کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ نیٹ ورک ماضی میں بھی اسی طرز پر دیگر شہریوں کو بیرونِ ملک بھجوانے کی کوشش کرتا رہا ہے یا اس کے روابط ملک کے دیگر شہروں یا بیرونِ ملک کسی منظم مافیا سے جڑے ہوئے ہیں۔
مقدمے میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ دورانِ تفتیش اگر کسی اور فرد کا کردار سامنے آیا تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ ایف آئی آر کی نقول متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں اور کیس کی تفتیش اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے سپرد ہے۔