’برطانوی، آسٹریلوی اور جرمن شہری کشمیر کے سفر سے گریز کریں‘

برطانیہ، جرمنی اور آسٹریلیا نے ٹریولنگ ایڈوائزی جاری کی ہے جس میں تینوں ملکوں نے انڈین حکومت کی جانب سے جاری سکیورٹی الرٹ کے باعث اپنے شہریوں کو جموں و کشمیر کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔
 برطانیہ کے خارجہ اور کامن ویلتھ آفس نے انڈین حکام کی جانب سے سکیورٹی وجوہات کے باعث سالانہ امر ناتھ یاترا معطل کئے جانے کے بعد اپنے شہریوں کے لئے ایڈوائزی جاری کی ہے۔ برطانوی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کشمیر خصوصاً سری نگر اور جموں کو ملانے والی شاہراہ کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی میں موجود برطانوی ہائی کمشنر صورت حال کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ اگر آپ اس وقت جموں و کشمیر میں ہیں تو بدستور محتاط رہیں۔ مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور رونما ہونے والے حالات بشمول ٹریولایڈوائزی کے ذریعے باخبر رہیں ۔
جرمنی نے بھی اپنے شہریوں کے لئے ایسی ہی ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’انڈین حکومت کی جانب سے سکیورٹی الرٹ کے باعث فوری طور پر جموں و کشمیر کے سفر کے لئے حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے ۔ ایڈوائزی میں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جرمن شہری جو اس وقت کشمیر میں ہیں ریاست سے نکل جائیں‘۔
و اضح رہے کہ ریاستی حکومت کی ایڈوائزری کے بعد وادی میں مقیم سیاحوں اور یاتریوں کے نکلنے کا عمل جاری ہے۔
 انڈین میڈیا کے مطابق کشمیر میں محکمہ سیاحت کے حکام نے کہا ہے کہ وادی کے مختلف مقامات پر 25 سے 30 ہزار سیاح مقیم تھے جنہیں ہوٹلوں سے نکالا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے سیاحوں اورہندو یاتریوں کو کشمیر چھوڑنے کے احکامات کے بعد ہفتے کو 6 ہزار 216 مسافر کشمیر سے نکلنے کے لیے سری نگر ایئرپورٹ پہنچے۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سری نگرایئر پورٹ سے 6 ہزار 200 مسافروں نے سفر کیا۔ رپورٹ کے مطابق 5 ہزار 829 مسافر مختلف ایئر لائنز کی 32 پروازوں کے ذریعے انڈیا کے مختلف علاقوں کو چلے گئے جبکہ 387 مسافروں کو انڈین ایئر فورس کے جہازوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں پہنچایا گیا۔ ۔سرینگر ایئر پورٹ پر بڑی تعداد میں مسافر موجود ہیں۔ مسافروں کی تعداد میں اضافے کے بعد جہازوں کے ٹکٹ بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔

شیئر: