توت عنخ آمون کے گولڈن تابوت کی بحالی

۔مصر کے عظیم عجائب گھر کے افتتاح پر گولڈن تابوت کی رونمائی ہو گی
مصر کے وزیر آثار قدیمہ خالد العنانی نے بتایا ہے کہ توت عنخ آمون کے گولڈن تابوت کی بحالی کا کام شروع کردیا۔رونمائی 2020ء میں ہو گی ۔یہ تابوت منفرد تاریخی تحفہ ہے۔مصر کے عظیم عجائب گھر کے افتتاح کے موقع پر گولڈن تابوت کی رونمائی ہو گی ۔
مصری میڈیا اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق توت عنخ آمون کا گولڈن تابوت 97برس سے خستہ حالت میں تھا ۔ یہ الاقصر شہر کی وادی الملوک میں شاہی قبرستان میں پڑا تھا۔اب اس کی صفائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے ۔8ماہ میں بحالی کا کام مکمل ہو جائے گا ۔
توت عنخ آمون 1333قبل مسیح میں تخت نشین ہوا تھا۔یہ سب سے مشہور فرعون بن گیا ۔ اس کی شہرت کا باعث گولڈن تابوت بنا جو صحیح حالت میں 1922ءکے دوران دریافت ہوا تھا۔
یاد رہے کہ گولڈن تابوت کا بڑا حصہ تلف ہو گیا ہے ۔اس کی گولڈن تہہ میں دراڑیں ہیں ۔
جولائی 2019ءکے دوران مصر کی وزارت آثار قدیمہ نے توت عنخ آمون کے لکڑی کے گولڈن تابوت کو شاہی قبرستان سے مصر کے بڑے عجائب گھر منتقل کیا ۔
مصری آثار قدیمہ کونسل کے سیکریٹری مصطفی وزیری نے اس وقت اپنے بیان میں بتایا تھا کہ تابوت آثار قدیمہ کی مجلس قائمہ کی منظوری پر منتقل کیا گیا ہے۔منتقلی کے وقت زبردست حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔سارا کام ماہرین آثار قدیمہ کی نگرانی میں انجام دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ توت عنخ آمون فرعون مصر کا انتقال 1352 قبل مسیح میں 18 برس کی عمر میں ہوا تھا۔ انہوں نے مصر پر صرف نو برس راج کیا۔ توت عنخ آمون کی پ±راسرار موت کی گتھی آج تک نہیں سلجھائی جا سکی۔
و اضح رہے کہ توت عنخ آمون کی موت پر±اسرار انداز میں ہوئی تھی۔توت عنخ آمون واحد مصری فرعون ہیں جن کا مقبرہ اپنی اصل حالت میں دریافت ہوا۔
توت کا مقبرہ دریائے نیل کے مغربی کنارے پر واقع وادی الملوک میں برطانوی ماہر آثار قدیمہ ہوارڈ کارٹر نے 4 نومبر 1922ءکو دریافت کیا تھا۔ اس مقبرے سے ملنے والے نوادر مصر قدیم کی غیر معمولی ترقی کے آئینہ دار ہیں۔
 

شیئر: