شادی سے بچنے کے لیے خودکشی

وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں رسم و رواج، طور طریقے اور زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق عادتیں بھی بدلنے لگیں۔ ماضی قریب تک نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں شادی کا شوق دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ماں باپ اور رشتے دار بھی لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی باتیں مزے سے کرتے اور ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ اس کی بیٹی کے ہاتھ پیلے ہو جائیں ۔اس کا بیٹا صاحب خانہ بن جائے۔ اب لڑکیاں ہوں یا لڑکے ماں باپ کو شادی سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔نیا رجحان شادی سے فرار کا پیدا ہونے لگا ہے۔ 
الامارات الیوم کے مطابق ایک 22سالہ مصری نوجوان اسلام نے شادی سے بچنے کےلئے خودکشی کرکے مصری معاشرے میں طوفان برپا کر دیا۔
مصری جریدے الیوم السابع کے مطابق 22 سالہ اسلام، بی ٹیک تھا۔ وہ ”العاشر من رمضان“ میں سکونت پذیر تھا۔ یہ نیا شہر قاہرہ کے مضافات میں واقع ہے۔
اسلام خاندان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ماں باپ اس کا گھر بسانا چاہتے تھے۔ پے درپے رشتے پیش کر رہے تھے۔ اسلام شادی پر آمادہ نہیں تھا۔
عدالتی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ نوجوان الگ تھلگ رہ رہا تھا، وہ کسی بھی قیمت پر شادی کےلئے تیار نہیں تھا۔ اس کی سوچ یہ تھی کہ وہ اپنے طور پر محنت کمائی کر کے اپنا مستقل بنانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام نے کہا تھا کہ ’جب میں اپنے قدموں پر کھڑا ہو جاﺅں گا تب ہی شادی کروں گا۔‘ گھر والے اس کی یہ بات ماننے پر آمادہ نہیں تھے۔ وہ شادی کے لیے بضد تھے۔ اس نے اپنے ماں باپ کی ضد کو دیکھتے ہوئے بالآخر خودکشی کا فیصلہ کر لیا اور گلے میں پھندا ڈالکر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
مصری تجریہ نگاروں نے معاشرے میں خودکشی کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خودکشی کے واقعات میں اضافے کے متعدد اسباب بیان کیے ہیں۔ بڑا سبب یہ ہے کہ نوجوانوں میں مذہبی شعور کم ہو رہا ہے۔ دوسرا اہم سبب معاشی حالات کا دباﺅ ہے، تیسرا سبب غریبوں اور دولت مندوں کے درمیان تیزی سے بڑھتا ہوا فرق ہے۔
 

شیئر: