Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کی بیروت کے مضافاتی علاقے پر شدید بمباری، حزب اللہ کی اسرائیلیوں کو وارننگ

اسرائیل نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب حزب اللہ کے زیر کنٹرول بیروت کے جنوبی مضافات پر شدید فضائی حملے کیے اور رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق  ایران کی حمایت حزب اللہ نے اسرائیلی شہریوں کو سرحد کے قریب قصبوں اور دیہات چھوڑنے کی وارننگ جاری کی تھی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے رات کے وقت جنوبی علاقوں میں 26 مرتبہ فضائی حملے کیے جن کا ہدف حزب اللہ کے کمانڈ سینٹر اور ہتھیاروں کے ذخائر تھے۔
جمعرات کو اسرائیلی فوج نے کے ایک ترجمان نے جنوبی مضافات کے رہائشیوں کو مشرق اور شمال کی جانب جانے کا کہا اور ایک نقشہ بھی دکھایا جس میں دارالحکومت کے چار بڑے علاقے شامل تھے۔
ان چار علاقوں کو چھوڑنا لازمی قرار دیا گیا جن میں بیروت ایئرپورٹ کے قریب علاقے بھی شامل تھے۔
حزب اللہ نے  جمعے کی صبح اپنے ٹیلی گرام چینل پر عبرانی زبان میں ایک پیغام میں اسرائیلیوں کو سرحد سے پانچ کلومیٹر کے اندر قصبے چھوڑنے کی وارننگ دی۔
حزب اللہ نے کہا کہ ’آپ کی فوج کی لبنان کی خودمختاری اور محفوظ شہریوں کے خلاف جارحیت، شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور انخلا کی مہم کا جواب دیا جائے گا۔‘
2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کے دوران سرحدی علاقے کے ہزاروں اسرائیلی شہریوں کو نکالا گیا تھا تاہم بعد میں بہت سے واپس آ گئے۔ اسرائیلی حکام نے پہلے کہا تھا کہ فی الحال انہیں نکالنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
لبنان اس جنگ میں اُس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے پیر کے دن فائرنگ شروع کی جس سے اسرائیلی فوج کی نئی کارروائی شروع ہوئی، اور ایئر سٹرائیک بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوبی و مشرقی لبنان پر مرکوز ہوئی۔
لبنان اس جنگ میں اُس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے پیر کے روز فائرنگ شروع کی جس کے بعد اسرائیل نے نئی فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا اور فضائی حملے بیروت کے جنوبی مضافات کے ساتھ ساتھ جنوبی اور مشرقی لبنان میں بھی کیے گئے۔
اسرائیل نے لبنانیوں کو بھی جنوبی اور مشرقی لبنان کے بڑے علاقوں سے نکلنے کا حکم دیا ہے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق رواں ہفتے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 123 افراد ہلاک اور مزید 683 زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت کے اعداد و شمار میں شہریوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی گئی۔

 

شیئر: