Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل نے جنوبی بیروت کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دے دی

لبنان، پیر کو مشرقِ وسطیٰ کی اس جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل نے جمعرات کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے زیرِاثر جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دے دی، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ بڑی تعداد میں وہاں سے نقل مکانی کرنے لگے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کے چوتھے روز سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت دی کہ وہ مشرق اور شمال کی جانب منتقل ہو جائیں۔
انہوں نے ایک نقشہ بھی جاری کیا جس میں دارالحکومت کے چار بڑے اضلاع کی نشاندہی کی گئی تھی جنہیں فوری طور پر خالی کرنے کا کہا گیا۔ ان میں سے کچھ علاقے بیروت ایئرپورٹ کے قریب واقع ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ’اپنی جانیں بچائیں اور فوراً اپنے گھروں سے نکل جائیں۔ جنوب کی جانب کسی بھی قسم کی نقل و حرکت لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔‘
ٹی وی فوٹیج کے مطابق مضافاتی علاقوں سے باہر جانے والی سڑکوں پر شدید رش دیکھنے میں آیا، جہاں لوگ گاڑیوں اور پیدل علاقے سے نکلتے دکھائی دیے۔ جنوبی مضافات میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی گئیں جو رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کے انتباہ کے طور پر کی گئیں۔
لبنان، پیر کو مشرقِ وسطیٰ کی اس جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس کے بعد اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت آ گئی۔ یہ حملے زیادہ تر بیروت کے جنوبی مضافات، جنوبی لبنان اور مشرقی لبنان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بدھ کو اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تقریباً آٹھ فیصد رقبے پر مشتمل علاقے کے رہائشیوں کو بھی علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔
اسرائیلی بمباری اور انتباہ کے باعث اس ہفتے بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوبی لبنان سے پہلے ہی دسیوں ہزار لبنانی شہری اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 77 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ حزب اللہ کے حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

ٹی وی فوٹیج کے مطابق مضافاتی علاقوں سے باہر جانے والی سڑکوں پر شدید رش دیکھنے میں آیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے، جہاں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے، دارالحکومت کے سب سے گنجان آباد علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ سنہ 2024 میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے دوران اور اس سے قبل سنہ 2006 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران بھی شدید فضائی حملوں کی زد میں رہا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے جمعرات کو کہا کہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں کے رہائشیوں کو فوری انخلا کا اسرائیلی انتباہ جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ میں لبنان کے محقق رمزی قیس نے کہا کہ ’دریائے لیتانی کے جنوب میں رہنے والے تمام لوگوں کو فوری طور پر انخلا کا کہنا قانونی اور انسانی بنیادوں پر سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے اور شہریوں کی سلامتی کے بارے میں تشویش پیدا کرتا ہے۔‘
ادھر اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے خبردار کیا کہ بیروت کا جنوبی علاقہ الضاحیہ، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، جلد ہی غزہ کی طرح تباہی کا سامنا کر سکتا ہے۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 77 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ’بہت جلد الضاحیہ، خان یونس جیسا نظر آئے گا۔‘ ان کی مراد جنوبی غزہ کا وہ شہر ہے جو حماس کے ساتھ دو سالہ جنگ کے دوران اسرائیلی بمباری سے شدید متاثر ہوا۔
دوسری جانب لبنان کی وزیرِ سماجی امور حنین سید نے بتایا کہ اسرائیلی انخلا کی وارننگز کے باعث 83 ہزار 847 بے گھر افراد نے پناہ گاہوں میں رجسٹریشن کرائی ہے، جبکہ ملک بھر میں پناہ گاہوں کی تعداد 399 تک پہنچ گئی ہے۔

 

شیئر: