Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہُرمز بند رہی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے: قطری وزیر توانائی

سعد الکعبی نے کہا کہ ’اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو خلیجی ممالک تیل کی ترسیل روک سکتے ہیں‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
تیل پیدا کرنے والے خلیج کے ممالک چند ہفتوں میں تیل کی برآمدات روک سکتے ہیں، جس سے تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے جمعے کو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تیل اور گیس کی ترسیل کی صورت حال پر اپنا موقف بیان کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر آئل ٹینکرز آبنائے ہُرمز سے نہ گزر سکے تو اگلے دو سے تین ہفتوں میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔‘ 
واضح رہے کہ آبنائے ہُرمز دنیا کا سب سے اہم سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے تیل پیدا کرنے والے بڑے خلیجی ممالک اپنا تیل عالمی منڈی تک پہنچاتے ہیں۔
یہ صورتِ حال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
اس جنگ کے باعث پورے خطے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے، اور آبنائے ہُرمز قریباً بند ہو چکی ہے جبکہ کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی ہیں۔
سعد الکعبی نے کہا کہ اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو تیل برآمد کرنے والے زیادہ تر خلیجی ممالک ’فورس میجور‘ کا اعلان کر سکتے ہیں، یعنی وہ غیر معمولی حالات کی وجہ سے اپنے تیل کی ترسیل روک سکتے ہیں۔
انہوں نے اپنے انٹرویو میں خبردار کیا کہ ’اس صورتِ حال کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل جبکہ گیس کی قیمت 40 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ تک پہنچ سکتی ہے۔‘
قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی کا مزید کہنا ہے کہ ’اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ چند ہفتے جاری رہی تو دنیا کی معاشی ترقی متاثر ہو گی۔‘

’اگر جنگ فوراً ختم ہو بھی جائے تب بھی قطر کو گیس کی ترسیل معمول پر لانے میں چند ہفتے سے چند ماہ لگ سکتے ہیں‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)

’توانائی مہنگی ہونے سےکئی مصنوعات کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، فیکٹریاں پیداوار بند کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں اور عالمی معیشت میں سلسلہ وار بحران پیدا ہو سکتا ہے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل خلیجی ممالک پر ایران کے جوابی حملوں کی وجہ سے قطر نے دو مارچ کو اپنی مائع قدرتی گیس ایل این جی کی پیداوار بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
قطر کا یہ پلانٹ دنیا کی قریباً 20 فیصد ایل این جی کی ترسیل کرتا ہے، جو ایشیا اور یورپ کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سعد الکعبی نے کہا کہ ’اگر جنگ فوری طور پر ختم ہو بھی جائے تب بھی قطر کو گیس کی ترسیل معمول پر لانے میں چند ہفتے سے چند ماہ لگ سکتے ہیں۔‘

شیئر: