Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی حملے میں تباہ خامنہ ای کا بنکر اب بھی ایرانی لیڈرز کے زیرِاستعمال

اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح اعلان کیا کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران پر ’وسیع پیمانے پر فضائی حملوں کی نئی لہر‘ شروع کر دی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیلی میڈیا کی جمعے کو شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے زیرِزمین بنکر کو تباہ کر دیا ہے، جسے ان کے قتل کے بعد بھی اعلیٰ ایرانی حکام استعمال کر رہے تھے۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے خفیہ نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات ملنے کے بعد 50 جنگی طیاروں کے ذریعے تہران کے وسط میں کئی بلاکس پر پھیلے اس خفیہ زیرِ زمین کمپلیکس کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 100 سے زائد بم اور میزائل استعمال کیے گئے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ جب اس زیرِزمین کمپلیکس کو تباہ کیا گیا تو اس وقت کچھ ایرانی رہنما بھی وہاں موجود تھے۔
اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق ’یہ زیرِزمین فوجی بنکر تہران کے مرکز میں ایرانی قیادت کے کمپاؤنڈ کے نیچے واقع تھا اور اسے ایرانی حکومت کے سپریم لیڈر کے لیے محفوظ ہنگامی کمانڈ سینٹر کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔‘
’آیت اللہ علی خامنہ ای کو آپریشن ’دھاڑتا شیر‘ کے دوران بنکر استعمال کرنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد بھی ایرانی حکومت کے سینیئر حکام اس کمپاؤنڈ کو استعمال کرتے رہے۔‘
رپورٹ کے مطابق اس خفیہ زیرِزمین کمپلیکس کے متعدد داخلی راستے تھے اور یہ اہم کمانڈ مراکز میں سے ایک تھا جہاں سے آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر رہنما بحران کے دوران اکثر حکومتی امور چلاتے تھے۔
اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح اعلان کیا کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران پر ’وسیع پیمانے پر فضائی حملوں کی نئی لہر‘ شروع کر دی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے غیرمعمولی طور پر شدید تھے اور ان سے قریبی علاقوں میں گھروں تک زلزلے جیسی لرزش محسوس کی گئی۔ بعض افراد نے ایرانی شہر کرمانشاہ کے اطراف بھی دھماکوں کی اطلاع دی، جہاں متعدد میزائل اڈے موجود ہیں۔
ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اس تنازع کے حوالے سے ’کچھ ممالک‘ نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 

شیئر: