قومیت، نسل پرستی کا شیڈ کارڈ

آپ نے کبھی شیڈ کارڈ تو دیکھا ہو گا۔ وہی شیڈ کارڈ جس میں ایک ہی رنگ کے کئی شیڈ کاغذ پر دھرے ہوتے ہیں۔ نیلے رنگ کی ہی کئی اقسام ہوتی ہیں۔
اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ خالی خولی نیلے رنگ سے کام چلا لیا جائے۔ آسماں کا نیلا رنگ اور ہوتا ہے اور کسی کی جھیل سی آنکھوں کا نیلا رنگ اور۔ پینٹ کی دکانوں پر پڑا ہوتا ہے۔ کبھی دوپٹے رنگ کروانے جائیں تو وہاں بھی ملتا ہے۔ رنگریز پہلے ہی شیڈ پر انگلی رکھوا کر بات پکی کر لیتا ہے کہ مبادا آپ بعد میں مین میخ نکالیں۔ 
رنگوں کی دنیا سے رغبت تھی۔ اس لیے شیڈ کارڈ کو بھی بہت غور سے گھورتے۔ یہ نہیں معلوم تھا کہ زندگی میں ایک ایسا مقام بھی آئے گا جب انسانوں کے شیڈ کارڈز سے بھی تعارف ہو جائے گا۔ 
جب جنوبی براعظم میں ہجرت کا سلسلہ ہوا تو احباب نے بڑی مبارکباد تھی۔ عجیب بات ہے کہ ہمارے ہاں اپنے ہی ملک سے ہجرت کرنا ایک خوشی کی بات سمجھا جاتا ہے۔ جسے ہجرت کا درجہ ملے اسے خوش نصیبی کے اعلیٰ مقام پر فائز سمجھا جاتا ہے۔ خیر، کچھ لوگوں نے ہمیں اس بات سے بھی ڈرایا کہ آسٹریلیا میں نسلی تعصب اپنے عروج پر ہے۔ گورے تمہیں کبھی اپنے برابر نہیں جانیں گے۔ ہماری بلا سے، ہم پر تو ہجرت کی دھن سوار تھی۔ ان حاسدوں کی بات پر کیوں کان دھرتے۔

سچ پوچھیے تویہاں آنے سے پہلے گورے اکا دکا ہی دیکھے تھے۔ ہمارا اس قوم سے قریبی تعارف انگریزی فلموں اور کتابوں کی حد تک ہی محدود تھا۔ جارج کلونی اور مسٹر ڈارسی سے ہمیں کبھی ایسی کوئی شکایت تو نہیں ہوئی۔ ہمیشہ دل اور شکل کے اچھے ہی لگے۔ انگریزی زبان سیکھنے کا بچپن سے ہی خبط تھا۔ والدین نے ایسے سکول میں ڈالا جہاں اردو بولنا منع تھا۔ فیس جو بھی تھی لیکن ہماری اعلیٰ تعلیم، جو کہ انگریزی میں ہی ممکن تھی، پر کمپرومائز نہ کیا۔
ہمیں ہمیشہ انگریزوں کی ہر بات پیاری ہی لگی۔ ان کا لباس بھلا ہی لگا۔ ان کا چھری کانٹے سے پھیکی سبزی کھانا ہمیشہ تہذیب کی معراج ہی نظر آیا۔
جیسے ہی ایئرپورٹ پر اترے ہمیں ایک اجنبیت کا احساس شروع ہوا۔ کچھ احساس کمتری بھی غالب تھا۔ ہر شخص اپنے سے بہتر ہی لگ رہا تھا۔ اپنے ہی کالے بال اور کالی آنکھیں شیشے میں گئے گزرے سے لگے۔ کچھ عرصے بعد دھند چھٹی تو معلوم ہوا کہ دنیا کے تمام انسان اندر سے ایک سے ہی ہیں۔
خدا لگتی کہیں تو ہمیں وہ نسلی تعصب نظر نہیں آیا جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ کئی بار ایسا ضرور ہوا کہ ہمیں کسی نے یہ کہہ دیا تم پاکستانی نہیں لگتیں۔ تم تو اتنی اچھی انگریزی بولتی ہو۔ تم تو برقع نہیں لیتیں۔ کیا پاکستان میں طالبان تمہیں سکول جانے دیتے تھے؟ تمہارے ہاں عورتیں ڈرائیونگ کرتی ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔
ہمیں ان سوالات پر کبھی غصہ نہیں آیا بلکہ ہنسی ہی آئی۔ گوروں کو یہی لگتا تھا کہ پاکستان ایک مکمل بنیاد پرست ریاست ہے جہاں تمام عورتیں گھروں میں بند رہتی ہیں۔ ہم سے مل کر انہیں ہمیشہ حیرت ہی ہوئی۔ ہماری ایک انگریز سہیلی  ڈوروتھی بولی کہ ہمیں چاہیے کہ ہم ان سوالوں پر کرنے والے کا منہ توڑیں۔ لیکن ہماری طبیعت اس قدر نازک نہ تھی۔

ہمیں تو ان میں وہ اخلاقی برائیاں بھی نظر نہ آ سکیں جن کی وجہ سے ان کا معاشرہ انحطاط پذیر ہے۔ ہمیں تو خاندانی نظام کا زوال بھی کچھ صحیح سے دکھائی نہیں دیا۔ معاشرہ زوال پذیر ضرور ہوتا اگر انسان انسان کی عزت نہ کرتے۔ خاندانی نظام بھی زوال کا شکار ہوتا اگر لوگوں کے حقوق غصب کر کے ان کو زبردستی ایک بندھن میں رہنے پر مجبور کیا جاتا۔ ایسی اولادیں بھی ملیں جو ماں باپ کا اچھے سے خیال رکھتی تھیں۔ ایسی مائیں بھی نظر آئیں جنہوں نے بچوں کے پیدا ہوتے ہی گھر رہنے کا فیصلہ کیا کہ ان کا خیال رکھ سکیں۔ 
ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ ان کے شیڈ کارڈ میں ہمارا رنگ بھورا ہے۔ ان میں بھی ایک انتہا پسند طبقہ ایسا ضرور ہے جو ہم سے خار کھاتا ہے۔ مساجد میں گولیاں برساتا ہے۔ لیکن خدا کا کرم یہ ہوا کہ عمومی طور پر حالات مختلف ہیں۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں بھانت بھانت کے ملکوں سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے انہیں اب اس ورائٹی کی عادت پڑ چکی ہے۔ انہیں کچھ خاص اوپرا نہیں لگتا۔

جہاں تک بات ہے ڈوروتھی کے مشورے کی تو اسے کیسے بتائیں کہ جہاں سے ہمارا تعلق ہے وہاں کا شیڈ کارڈ تو تم لوگوں سے بہت پیچیدہ ہے۔ ہماری تہذیب تم سے مقدم ہے اس لیے ہر صیغے کا اپنا شیڈ کارڈ ہے۔ 
مذہب کے شیڈ کارڈ میں بات مسلم غیر مسلم سے شروع ہوتی ہے اورمسلکی تقسیم تک پہنچتی ہے۔ کسی شیڈ کی یہ مجال نہیں کہ کسی دوسرے کی عبادت گاہ میں پیر بھی دھرے۔ سب کا اپنا خدا ہے۔ کوئی مسلکی کارڈ کو ہاتھ تو لگائے۔ ہم نسلیں اجاڑ دیں گے۔ انتخابات تک اسی کی بنیاد پر لڑیں گے۔ کسی پر بھی گستاخی کا الزام لگا کر اسے راکھ کر دیں گے۔
ایک شیڈ کارڈ قومیت کا ہے۔ پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچ، پٹھان، مہاجر، کشمیری۔۔۔ سب ملیں گے۔ ذات پات کا خانہ بھی اسی میں ہے۔ اسی شیڈ کارڈ کی رو سے ہی  اسمبلی میں کھلم کھلا  کہا  جاتا ہے کہ ’ملک میں ہجرت کر کے آنے والے اپنے ملکوں سے بھاگ کر آئے ہیں۔‘ آفٹر آل ہجرت کرنا تو شوقین لوگوں کا مزاج ہے۔ جب جی کیا بھاگ کر سب کچھ لٹا کر یہاں سے وہاں پہنچ گئے۔
اپنی برادری سے باہر شادی بیاہ کرنا قبیح فعل ہے۔ ایک زبان بولنے والے پر یہ فرض ہے کہ دوسری زبان بولنے والے کو حقیر جانے۔ اگر نہیں جانے گا تو یقینا اس کی زباندانی اور نسل میں کوئی کھوٹ ہے۔ 
‏‏ایک شیڈ کارڈ طبقاتی ہے جس میں بہت زیادہ امیر، زیادہ امیر، کم زیادہ امیر، امیر، کم امیر، کم غریب، کم زیادہ غریب، زیادہ غریب اور بہت زیادہ غریب کے شیڈ میسر ہیں۔ اور بھی کئی شیڈ کارڈ ہیں جیسے ڈیفینس میں رہنے والوں کا شیڈ کارڈ، یوحنا آباد کا شیڈ کارڈ، شہری شیڈ کارڈ، پینڈو شیڈ کارڈ۔۔۔کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔ 

اور بھی کئی شیڈ کارڈ ہیں جیسے ڈیفینس میں رہنے والوں کا شیڈ کارڈ، یوحنا آباد کا شیڈ کارڈ، شہری شیڈ کارڈ، پینڈو شیڈ کارڈ۔۔۔

‏‏لیکن ہم ڈوروتھی کو یہ سب سنا نہیں سکتے۔ اس کی عقل میں مشرقی پیچ و خم کہاں سمائیں گے۔ اسے یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ ہمیں بھی اپنے اس زرخیز شیڈ کارڈ کا یہیں آ کر پتہ چلا۔ یہاں آ کر ہی معلوم ہوا کہ ہم کتنے حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ تمہارے ذرا سے سوال ہمارا کیا بگاڑ لیں گے۔ ہم تو اپنے ملک سے ایسی پکی ٹریننگ کروا کر آئے ہیں کہ محض ایک سوال ہمارا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ شاید تم لوگوں کے نزدیک میں صرف براون ہوں۔ میرے ملک میں میرا نام بہت لمبا ہے جو میرے مذہب سے شروع ہو کر میرے گھر کے پتے پر ختم ہوتا ہے۔ اگر میں شیعہ ہوں تو سنی کا تعصب برتوں گی۔ زیادہ غریب ہوں تو کم غریب کا تعصب سہوں گی۔
‏‏تم مغرب والے ہمارا کیا بگاڑ پاو گے۔ ہم دنیا کی قدیم ترین تہذیب کے امین ہیں۔ جنت کی نوید بھی ہم ہی کو سنائی گئی ہے۔ تمہارا معاشرہ تو یوں بھی انحطاط پذیر ہے۔ تم لوگ تو پھیلے آلو کھانے والے لوگ ہو۔ ایک سے زیادہ شیڈ کارڈ بھی نہ بنا پائے۔ جاو جاو، کچھ سیکھنا ہو تو ہم سے پوچھ لیا کرو۔

شیئر: