’کرفیو کے بعد کشمیریوں کے ساتھ کیا ہو گا‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پوری دنیا انتظار کر رہی ہے کہ جب جموں و کشمیر سے کرفیو اٹھے گا تو  ’مظلوم کشمیریوں‘ کے ساتھ کیا ہوگا۔
اپنی ٹویٹ میں انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کا خیال ہے کہ بے پناہ عسکری قوت کے بل بوتے پر وہ اہل کشمیر کی تحریک آزادی کا گلا گھونٹ لے گی؟
ان کے مطابق قومی امکانات یہ ہیں کہ اس تحریک میں شدت آئے گی-
عمران خان نے لکھا کہ ’دنیا کو یقینی طور پر اہل کشمیر کی نسل کشی کا بدترین مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اہم سوال ہے کہ ’ہم اس بار بی جے پی حکومت کی شکل میں فاشزم کا ایک اور مظاہرہ دیکھیں گے یا پھر عالمی برادری اسے روکنے میں اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرے گی؟

اقوام متحدہ کے سیکرٹری کا بیان

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو نے جموں و کشمیر میں حالیہ صورت حال اور انڈین پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1972 میں ہونے والے شملہ معاہدے میں مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے چارٹر کے مطابق پر امن طریقے سےکرنے پر اتفاق ہوا تھا۔
سیکرٹری جنرل نے جموں و کشمیر کے معروضی حالات اور زمینی حقائق تبدیل کرنے سے گریز کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
انہوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال بدتر ہو سکتی ہے۔


اقوام متحدہ نے جموں کشمیر کا سٹیٹس تبدیل نہ کرنے پر زور دیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

واضح رہے کہ انڈیا نے 5 اگست کو ایک صدارتی حکم کے ذریعے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا تھا لیکن پاکستان کی جانب سے اس انڈین اقدام کو مسترد کرتے ہوئے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لیجانے، انڈیا کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کرنے اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
انڈیا کے اس فیصلے کے بعد عمران خان نے کہا تھا کہ انڈیا نے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کر کے قائداعظم کے دو قومی نظریے کو درست ثابت کر دیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے اثرات دو ملکوں پر ہی نہیں پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ ’ہم اس کے خلاف اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی فورمز پر جائیں گے۔‘
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے کہا تھا کہ پہلے بھی انڈیا نے حملے کی کوشش کی تھی جس کا ہم نے بھرپور جواب دیا۔
’اگر آگے بھی کبھی ایسا ہوا تو پھر یہی کچھ ہو گا اور اگر بات روایتی جنگ کی طرف گئی تو ہمارے سامنے دو راستے ہوں گے ایک بہادر شاہ ظفر والا اور دوسرا ٹیپو سلطان والا، اور ہم دوسرے راستے کا چنائو کریں گے اور خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔‘

شیئر: