میدان عرفات کا محل وقوع اور تاریخ کیا ہے ؟ 

میدان عرفات، مکہ  سے مشرق کی جانب طائف کی راہ پر 21 کلو میٹر دور ایک بڑا وسیع و عریض میدان ہے جہاں دنیا کے گوشے گوشے سے آنے والے عازمین حج 9 ذی الحجہ کو جمع ہوتے ہیں۔
یہ میدان شمال سے جنوب تک 12 کلو میٹر اور مشرق سے مغرب تک پانچ کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ شمالی جانب سے عرفات نامی پہاڑی سلسلے میں گھرا ہوا ہے۔ 
نو ذی الحجہ سے پہلے یہ میدان سنسان رہتا ہے جبکہ حج کے دن کسی شہر کا منظر پیش کرتا ہے۔ میدان عرفات حرم مکی سے باہر واقع ہے اور مقاماتِ حج میں وہ واحد جگہ ہے جو حدود حرم سے خارج ہے۔
میدان عرفات چند برسوںقبل تک چٹیل میدان ہوتا تھا۔ کہیں کہیں گھاس نظر آجاتی تھی لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔
یہاں زبردست شجر کاری کی گئی ہے۔ اب ہزاروں حاجی خیموں کے بجائے نیم کے درختوں کے نیچے چادر، دری یا جائے نماز بچھا کرعبادت اور ذکر میں مشغول ہوجاتے ہیں۔

 حج کرنے والوں کو سورج کی تمازت سے بچانے کے لئے میدان عرفات میں پھوار کا بندوبست کیا گیاہے۔ اسکی شکل یہ ہے کہ جگہ جگہ اونچے اونچے کھمبے نصب ہیں اور اسکے بالائی حصے سے ٹھنڈا پانی فوارے کی شکل میں گرتارہتا ہے جس سے ماحول میں خنکی پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر گرمی شدید ہوتی ہے تو اس صورت میں درجہ حرارت اتنا گر جاتا ہے کہ حجاج اسکے متحمل ہوسکیں۔

جبل رحمت

میدان عرفات کے بیچوں بیچ جبل رحمت ہے۔ یہ میدان عرفات کے شمال مشرق میں سرخ رنگ کی ایک مخروطی پہاڑی ہے جس کی اونچائی 200 فٹ سے کچھ کم ہے اور عرفات کے اصل پہاڑی سلسلے سے ذرا الگ سی ہوگئی ہے۔ اس پہاڑی کو بھی عرفہ کہتے ہیں لیکن اسکا زیادہ معروف نام جبلِ رحمہ ہے۔ ہر سال عازمینِ حج 9 ذی الحجہ کو یہاں آکر وقوف کرتے ہیں۔
جبل رحمت کے مشرقی جانب پتھر کی چوڑی سیڑھیاں چوٹی تک گئی ہیں۔ جبل رحمت کے اوپر ایک مینار بنا ہوا ہے۔ 60 ویں سیڑھی پر ایک چبوترہ ہے۔ اس پر ایک منبر رکھا ہے۔ ماضی میں یوم عرفہ کا خطیب اسی منبر پر کھڑے ہوکر 9 ذی الحجہ کو ظہر اور عصر کی نمازایک ساتھ شروع کرنے سے قبل خطبہ دیا کرتا تھا۔
میدان عرفات سے ہر سال دنیا بھر کے سیٹلائٹ چینلز وقوف عرفہ کے مناظر براہ راست پیش کرتے ہیں۔
 
 
 

شیئر: