’بارش ہورہی ہے، حکومت سو رہی ہے‘

سندھ کے ساحلی شہر کراچی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں بادل آتے ضرور ہیں مگر برستے نہیں، کالی گھٹائیں چھاتی ہیں مگر پھر یکدم ہی چمکتی چلچلاتی دھوپ نکل آتی ہے۔ بادلوں کی اس دغابازی سے کراچی والے اکثر ہی نالاں رہتے ہیں۔
جب پورا ملک مون سون بارشوں کی لپیٹ میں ہوتا ہے تو کراچی کے باسی آسمان سے برستی ٹپ ٹپ بوندوں کو ہی غنیمت جان کر اسی پر خوش ہولیا کرتے ہیں، اب یہ الگ بات ہے ان کی اس خوشی کا دورانیہ بھی زیادہ نہیں ہوتا۔
کتنے ہی ساون بارش کی آس لگائے اور دعائیں مانگتے گزر جاتے ہیں مگر اس بار تو لگتا ہے جیسے کراچی والوں کی سن لی گئی ہو۔ قدرت کراچی والوں پر مہربان ہوگئی ہے لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ دینے والا جب بھی دیتا، دیتا چھپڑ پھاڑ کے۔ تو ایسا ہی کچھ معاملہ شہرقائد کے باسیوں کے ساتھ ہوا ہے۔

بارش سے کراچی کے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور سڑکوں پر  پانی جمع ہوگیا ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)

ابھی ایک ہفتہ قبل مون سون بارشوں کی وجہ سے پورا شہر ڈوبا رہا اور اب ایک بار پھر موسلا دھار بارش نے کراچی کو پانی پانی کردیا ہے۔ گذشتہ رات سے جاری بارش سے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور سڑکوں پر بارش کا پانی جمع ہوگیا ہے۔ کراچی کی اہم شاہراہیں اس وقت تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں جس سے لوگوں کو نقل و حمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے میٹرولوجسٹ عمران احمد صدیقی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی اور سندھ کے مختلف علاقوں میں تیز بارشوں کا سلسلہ رات تک جاری رہے گا جبکہ پیر کو بھی بارش کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاؤن میں 151 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ گلشن میں 149 ملی میٹر، ایئرپورٹ میں 129 ملی لیٹر، فیصل بیس میں 121 اور مسرور بیس میں 110 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

ایک ہفتہ قبل مون سون بارشوں کی وجہ سے پورا شہر ڈوبا رہا۔ (فوٹو:اے ایف پی)

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کمشنر کراچی افتخار شلوانی نے کہا کہ بارشں بہت زیادہ ہوئی ہے اور مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی عملہ مختلف علاقوں میں پانی کی نکاسی میں مصروف ہے۔ صورتحال کنٹرول میں ہے اور جلد بارش کے پانی کی نکاسی ہو جائے گی۔ 
کراچی میں شدید بارشوں میں نکاسی آب کی ناقص صورتحال اور کے الیکٹرک کا نظام ٹھپ ہوجانے پر شہری سوشل میڈیا پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔

محمد جبران خان نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’کراچی ڈوب رہا ہے،سندھ حکومت جاگو!‘

ایک اور صارف محمد راشد ابوبکر نے لکھا کہ’نکاسی آب کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے کراچی اب دریائی شہر بن چکا ہے۔

اسما نامی صارف نے لکھا کہ’بارش ہورہی ہے حکومت سو رہی ہے۔‘

ایک اور صارف سعدیہ شوکت  نے کے الیکٹرک پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’کراچی میں بارش کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور بارش کی پہلی بوند کے ساتھ ہی کے الیکٹرک بجلی فراہم نہ کرنے کی ذمہ داری نبھارہی ہے۔‘
کچھ صارفین حکومت پر گرج برس رہے ہیں تو کچھ اس صورتحال میں بھی چٹکلے چھوڑ رہے ہیں۔

ملیحہ نامی صارف نے اپنے آفس کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ’ اندر سے کوئی باہر نہ جا سکے، باہر سے کوئی اندر نہ آسکے۔‘
سوشل میڈیا صارفین نکاسی آب کے ناقص انتظامات کے باعث اپنے گھروں کے باہر جمع ہونے والے بارش کے پانی کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کررہے ہیں۔

شیئر: