کراچی میں بارشوں سے تباہی، 17 افراد ہلاک

سندھ کے ساحلی شہر کراچی میں گزشتہ ایک روز سے جاری بارش سے 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سڑکیں اور نشیبی علاقے زیر آب آچکے ہیں اور شہر میں سیلاب کے جیسی صورتحال ہے۔ بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے اور پانی میں پھنسے لوگ انتظامیہ کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔
شہر قائد میں کل رات سے لگاتار بارش ہو رہی ہے جس میں وقتاً فوقتاً تیزی آجاتی ہے۔بارش کے ساتھ بجلی کا بڑا بریک ڈاون بھی جاری ہے محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ آج رات تک جاری رہنے کا امکان ہے، اور پیر سے اس میں کمی آسکتی ہے۔
رسکیو اداروں کے مطابق کل سے آج تک ہونے والے حادثات سے ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو چکی ہے جن میں سے 10 افراد کرنٹ لگنے اور 7 چھت گرنے سے ہلاک ہوئے۔ 
رسکیو حکام نے بتایا کہ ڈیفینس، نارتھ کراچی، اورنگی، سولجر بازار، لانڈھی بھینس کالونی اور میٹھادر میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں خاتون سمیت 10 افراد ہلااک ہوئے، جبکہ بن قاسم، اورنگی، قصبہ کالونی اور کیماڑی میں چھت گرنے کے واقعات میں 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کراچی کے مضافات سے شہر کی جانب بہنے والے ندی نالوں میں سیلابی صورتحال ہے۔ ملیر ندی اور تھڈو نالہ سے اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔
ہائی وے کے قریب تین افراد ملیر ندی میں پھنس گئے تھے جنہیں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گھنٹوں بعد بچایا۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اتوار کی صبح بارش کے دوران شہر کے زیرِ آب علاقوں کا دورہ کیا۔ ان کے دورے کے دوران معلوم ہوا کہ قائد آباد کے علاقے میں پانچ افراد سیلابی ریلے میں پھنس ہوئے ہیں، جنہیں رسکیو اداروں نے کرین کے ذریعے نکالا۔

کراچی کے اندر بہنے والے نالے بھرنے کے بعد برساتی پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔ فوٹو اے ایف پی 

کراچی کے اندر بہنے والے نالے بھرنے کے بعد برساتی پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔ گجر نالے سے پانی ایف سی ایریا کے گھروں میں داخل ہو گیا ہے، جب کہ محمود آباد نالہ بھرنے کے باعث ارد گرد کے علاقے زیرآب آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ لیاری ندی سے بھی درمیانی درجے کا ریلہ گزر رہا ہے۔
اورنگی ٹاؤن، لانڈھی، کورنگی ملیر، صدر اور سرجانی ٹاؤن کے بیشتر علاقے مکمل طور پر ڈوب چکے ہیں اور وہاں گھروں کے اندر گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے مکین نقل مکانی پہ مجبور ہو گئے ہیں۔ شہر کے نسبتاً پوش علاقوں ڈیفینس، گلشن اور پی سی ایچ ایس میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔ سڑکیں اور گلیاں زیرآب ہیں اور پانی گھروں میں داخل ہونے کا خطرہ ہے۔
زیر آب آنے والے علاقوں کے مکین سوشل میڈیا کے ذریعے مدد کی اپیل کر رہے ہیں، لوگوں کے گھروں میں پانی آچکا ہے اور وہ نقل مکانی کے لیے لوگوں کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ 
شارع فیصل پہ اسٹار گیٹ، ناتھا خان، ایئرپورٹ فلائی اوور، کارساز، اور نرسری کے قریب سڑک زیرآب آنے کی وجہ سے مسافروں کو ایئرپورٹ اور ریلوے سٹیشن پہنچنے میں دقت کا سامنا ہے۔ بارشوں کے باعث ٹرینوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے اور مسافروں گھنٹوں انتظار پر مجبور ہیں۔
شہر کی مرکزی شاہراہوں یونیورسٹی روڈ، راشد منہاس روڈ، طارق روڈ، ایم اے جناح روڈ اور دیگر مقامات بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ گاڑیاں سڑک پہ پھنس گئی ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں کا آپس میں زمینی رابطہ فیالحال منقطع ہے۔
 کے الیکٹرک کے متعدد فیڈرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے شہر کے بیشتر علاقوں کو بجلی کی فراہمی منقطع ہے۔ کراچی کو پانی فراہم کرنے والے دھابیجی پمپنگ سٹیشن کو بھی بجلی کی فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے شہر کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے۔

زیر آب آنے والے علاقوں کے مکین سوشل میڈیا کے ذریعے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

بارش اور سیلابی صورتحال کی وجہ سے قربانی کے جانوروں کو بھی خطرہ لاحق ہے، کچھ علاقوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ بارش سے بچاؤ کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مویشیوں کے بیمار ہونے کا اندیشہ ہے۔
شہر میں سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر پاک فوج اور رینجرز نے زیرآب علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ فوجی اہلکار سڑکوں پہ پھنسے لوگوں کو نکالنے کے ساتھ ساتھ شاہراہوں اور نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والی صفائی مہم بھی فوج کی نگرانی میں ہو رہی تھی، شہری اور صوبائی انتظامیہ اس معاملے میں کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔
کراچی کے علاوہ حیدرآباد اور ٹھٹہ میں بھی بارش نے تباہی مچا دی ہے اوروہاں بھی سیلابی صورتحال ہے۔ حیدرآباد شہر کا بیشتر حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور شہر کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کراچی میں 190 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ اب تک سرجانی میں 189، گلشنِ حدید 180، ایئرپورٹ 157، فیصل بیس 177، لانڈھی 129، ناظم آباد 150، کیماڑی 131 اور نارتھ کراچی میں 109 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق شہر میں بارش برسانے والا سسٹم پہلے کی نسبت کمزور ہو چکا ہے اور بارش کے تھم جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شہر میں اتوار کی رات سے پیر کی شام تک ہلکی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ پیر کی شام سے شہر کا موسم بتدریج معمول پر آجائے گا۔

شیئر:

متعلقہ خبریں