’وزیراعظم عمران خان کے کام کرنے کی رفتار 120‘

وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے اردو نیوز کو خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں پر اس رفتار سے عملدرآمد نہیں ہو رہا جس طرح ہم چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر عمران خان 120 سے 130 کلو میٹر کی رفتار سے کام کر رہے ہیں تو اداروں کی رفتار 60 سے 70 کلومیٹر ہے، جب اتنا فرق ہوگا تو حکومتی پالیسیوں اور منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار سست ہو گی‘۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے بیوروکریٹک ڈھانچے میں اس تیزی کے ساتھ کام نہیں ہوتا جس طرح ہم چاہتے ہیں۔ ’ ملک میں پہلی بار سیاستدان لیڈر بن کر سامنے آیا ہے جو کہ اگلی نسل کی پلاننگ کر رہا ہے ۔ اس سے پہلے سیاستدان اگلے الیکشن کی تیاری کرتے تھے ایک الیکشن جیتا ہے تو اگلا الیکشن کیسا جیتنا ہے ۔ حکومتی اقدامات اور منصوبوں پر عمل درآمد کروانے کی رفتار میں تیزی لانے کی ضرورت ہے اور رواں سال اسی پر کام کریں گے۔‘
حکومت کی ایک سالہ کارکردگی بیان کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’ پاکستان تحریک انصاف کی پہلے سال میں سب سے بڑی کامیابی اس مایوس قوم کو امید دینا اور ملک کی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی معتبر شخصیت کو دیکھتے ہوئے دوست ممالک نے لڑکھڑاتی معیشت کو سنھبالنے میں مدد کی ۔ جب تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو ملک تاریخی قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا اور قرضوں کے اوپر سود واپس کرنے کا وقت آ چکا تھا  اور یہ ایک مشکل صورت حال تھی جس سے ہم کافی حد تک باہر آچکے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صادق اور امین ہونے کی وجہ سے عمران خان کا دفاع کرنا آسان ہے، تصویر: اےا یف پی

وزرا کی جانب سے ایک دوسروں کی وزارتوں میں مداخلت کے سوال کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ’کابینہ میں کچھ لوگ پہلی بار کابینہ کا حصہ بنے ہیں، جو کابینہ کے قواعد و ضوابط سے آگاہ نہیں ہیں اور جو تجربہ کار لوگ ہیں ان کو پتہ ہے کہ کیسے کابینہ کو قواعد کے تحت چلانا ہے۔ ‘ انہوں نے کہا کہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے کابینہ اجلاس کے اندر ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے لیکن ’ آہستہ آہستہ بہتری آئی گی اور وہ (پہلی بار بننے والے وزیر) بھی سیکھیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر کو بااختیار ہونا چاہیے اور پارلیمانی اور جمہوری اقدار پر عمل کر کے اپنے اپنے گراؤنڈ پہر کھیلنا ہوتا ہے اور اپنی ذمہ داری نبھانا ہوتی ہے ۔ اسی سے تبدیلی بھی آئے گی۔

سوشل میڈیا ٹرولنگ پر فردوس عاشق اعوان کیسا محسوس کرتی ہیں ؟ 

فردوس عاشق اعوان سے جب پوچھا گیا کہ آپ ہر وقت ٹی وی سکرینز پر کیوں نظر آتی ہیں کیا یہ وزیر اعظم کی ہدایت ہے؟ تو اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے آسان ہے کہ میں میڈیا سے چھپ جاؤں اور ان کے تلخ سوالات کے جوابات نہ دوں لیکن ’وزیراعظم خود نہیں بول رہے ہوتے بحیثیت وزیراطلاعات ان کا ترجمان ہی بات کر رہا ہوتا ہے اور حکومتی اقدامات سے عوام کو آگاہ رکھتا ہے۔‘ وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ میڈیا کے سامنے آنا اور ان کے تلخ سوالات کے جوابات دینا تو یہی کر رہی ہوں۔

فردوس عاشق کہتی ہیں کہ دنیا کی طرح ہماری کابینہ میں بھی منتخب اور غیر منتخب افراد ہیں، تصویر: اے پی پی

ان سے پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا ٹرولنگ پر وہ کیسا محسوس کرتی ہیں تو فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا کی ٹرولنگ لوگوں کے لئے تفریح کا ذریعہ ہے ، اس ملک میں لوگوں کے پاس تفریح کے مواقع کم ہیں۔ کسی طرح ان کے چہرے پر مسکراہٹ آجائے،  خوش ہوجائیں تو اسی میں میری خوشی ہے کہ میں لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹ لانے کا باعث ہوں ۔‘

پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں سے کس حکومت کا دفاع کرنا آسان ہے؟؟؟

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وزیر اطلاعات رہنے والی فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کو دفاع کرنا آسان ہوتا ہے بجائے ان کے جو مسٹر 10 پرسنٹ کے نام سے مشہور تھے، وہاں زیادہ مسائل تھے۔‘
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت کا چہرہ معتبر ہے ان کے دامن پر کوئی داغ نہیں ہے ، سپریم کورٹ نے صادق اور امین قرار دیا ہے اس لئے ان کا دفاع آسان ہے۔

ایک سال مکمل اب تک کتنی لوٹی ہوئی رقم واپس لائے گئی ؟؟؟


معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ نیب اب تک 30 ارب روپے وصول کر چکا ہے

وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ایک سال میں نیب 30  ارب روپے وصول کر چکا ہے ۔ ’ بین الاقوامی مفرور دیگر ممالک کی شہریت لے کر پاکستانی قانون کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں، جان بوجھ کر دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو تحفظ دینے کے لئے بیرون ممالک کے ساتھ کوئی قانون سازی نہیں کی تھی ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے دیگر ممالک کے ساتھ  باہمی قانونی مدد شروع کی ہے ، اس کے بغیر مفروروں کو پاکستان نہیں لایا جا سکتا، ان کے لئے لائحہ عمل چل رہا ہے، انہوں نے قانون کے شکنجے میں آنا ہے اور بالآخر  پیسوں کی وصولی ہونی ہے ۔

حکومت میں منتخب اور غیر منتخب افراد کی جنگ !!!

کابینہ میں غیر منتخب افراد پر تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے تنقید پر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کہ پوری دنیا میں غیر منتخب اور منتخب افراد مل کر کام کرتے ہیں ۔ ’ دنیا میں برطانیہ اور امریکہ بڑی جمہورتیں ہیں اور وہاں کی تاریخ دیکھ لیں تھنک ٹینکس کی اکثریت غیر منتخب لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم  عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں اور یہ ان کا استحقاق ہے کہ کسے کون سی ذمہ داری دی جائے ۔

شیئر: