شیریں مزاری کا پرینکا چوپڑا کے خلاف اقوام متحدہ کو خط

پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے انڈین اداکارہ پرینکا چوپڑا کو خیرسگالی سفیر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے۔
خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’مودی حکومت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یونیسیف کی خیرسگالی سفیر پرینکا چوپڑا مودی حکومت کے اس ظلم اور جنگ کی حمایت کر رہی ہیں جو ان کے عہدے کے تقاضوں کے منافی ہے۔‘

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں پلوامہ واقعے کے بعد جب پاکستان اور انڈیا کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے تو پرینکا چوپڑا جو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی خیرسگالی سفیر بھی ہیں، نے انڈین فوج کی حمایت کی تھی۔
انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا ’جے ہند‘ جس پر انہیں عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

حال ہی میں امریکی شہر لاس اینجلس میں منعقدہ ایک تقریب میں پرینکا چوپڑا بھی شریک تھیں کہ سوال و جواب کے سیشن کے دوران ایک پاکستانی نژاد امریکی عائشہ ملک نے ان کی جنگ کی حمایت سے متعلق ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں منافق کہہ ڈالا۔
عائشہ ملک نے کہا کہ ’ایسا بہت ہی کم ہوا ہے کہ آپ نے امن اور انسانیت کی بات کی ہو کیوں کہ ایک پڑوسی پاکستانی ہونے کے ناطے میں جانتی ہوں کہ آپ ایک منافق ہیں۔ آپ نے ٹویٹ کیا اور اس میں اپنی آرمی کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

 عائشہ ملک نے مزید کہا کہ آپ یونیسیف کی سفیر برائے امن ہیں اور پھر بھی آپ پاکستان کے خلاف ایٹمی جنگ پر خلاف اکسا رہی ہیں۔

اپنی بات مکمل کرنے سے پہلے ہی عائشہ ملک سے مائیک چھین لیا گیا جس پر پرینکا کچھ نہیں بولیں تاہم ،انہوں نے اتنا ضرور کہا کہ ’میرے پاکستان میں بہت دوست ہیں اور میں انڈیا سے ہوں۔ مجھے جنگ پسند تو نہیں لیکن میں محبِ وطن ہوں۔‘

اس سے قبل شیریں مزاری نے اپنے ایک ٹویٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ ’یونیسیف کو چاہیے کہ وہ بھارتی افواج اور مودی حکومت کی حمایت پر پرینکا چوپڑا کو فوری طور پر اعزازی سفیر کے عہدے سے سبکدوش کرے کیونکہ  یہ اس طرح کے اہم عہدے کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ یونیسیف کو اس طرح کے اہم اعزازی عہدوں کے لیے لوگوں کا انتخاب کرتے ہوئے مزید احتیاط کرنی چاہیے۔‘

شیئر: