Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الیکشن ایکٹ ترمیم: مالیاتی گوشواروں سے وابستہ ’سیاسی خطرات‘ ختم ہو جائیں گے؟

بل کے اغراض و مقاصد میں شفافیت اور پرائیویسی کے درمیان توازن کی بات کی گئی ہے (فائل فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کی قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 138 میں ترمیم منظور کر لی ہے جس کے تحت اب سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری کی جانب سے پیش کردہ اس بل کے مطابق اگر کسی رکن کی جان یا سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو تو سپیکر یا چیئرمین تحریری وجوہات کے ساتھ ان کے اثاثے پبلک نہ کرنے کی رولنگ دے سکیں گے۔
یہ ترمیم ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہی مالیاتی گوشوارے پانامہ کیس سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات کی نااہلی اور عروج و زوال کا سبب بنے ہیں۔
اگرچہ بل کے اغراض و مقاصد میں اسے ارکان کی ’پرائیویسی اور سکیورٹی‘ کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے تاہم قانونی ماہرین اور ناقدین اسے عوامی احتساب کے عمل کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
ماضی میں یہ معمول رہا ہے کہ الیکشن کمیشن ہر سال ارکانِ اسمبلی اور سینیٹ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات پبلک کرتا تھا جس کے بعد میڈیا ادارے، صحافی اور سول سوسائٹی ان اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لے کر یہ سوال اٹھاتے تھے کہ اگر کسی رکن کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے تو اس کا ذریعہ کیا ہے یا اگر کسی رہنما کے اثاثے کروڑوں میں ہیں تو اس نے ٹیکس کی مد میں انتہائی کم رقم کیوں ادا کی۔
اب پارلیمنٹ سے جو بل منظور ہوا ہے اس کے ذریعے الیکشنز ایکٹ 2017 کی میں کی گئی ترمیم کے تحت سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو اثاثوں کی تفصیلات شائع نہ کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
بل کے اغراض و مقاصد میں شفافیت اور پرائیویسی کے درمیان توازن کی بات کی گئی ہے اور موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اثاثوں کی تفصیلات کی اشاعت بعض اوقات ارکان اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے سکیورٹی خطرہ بن جاتی ہے۔ 
پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کے مطابق یہی خدشات اس قانون سازی کی بنیادی وجہ ہیں۔

ماضی میں کئی سیاست دانوں کو اثاثے ظاہر نہ کرنے کی بنیاد ہر نااہلی کا سامنا رہا ہے (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)

منظور شدہ ترمیم کے تحت اثاثوں کی تفصیلات زیادہ سے زیادہ ایک سال تک خفیہ رکھی جا سکیں گی تاہم اثاثوں اور واجبات کی مکمل اور درست تفصیلات الیکشن کمیشن کو خفیہ طور پر جمع کرانا لازم ہو گا۔
قانونی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اثاثوں کی تفصیلات کو عوامی دسترس سے نکالنے کا مطلب یہ ہو گا کہ عدالتی احتساب تو کسی حد تک باقی رہے گا مگر عوامی احتساب قریباً ختم ہو جائے گا۔ 
سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر آمنہ محمود کے مطابق ’پاکستان میں مالیاتی گوشواروں نے دراصل پہلی بار سیاست دانوں کو یہ احساس دلایا کہ اب سیاست صرف جلسوں اور نعروں کا کھیل نہیں رہی بلکہ نمبرز، ٹیکس اور ذرائع آمدن بھی عوامی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال گوشوارے جاری ہونے پر سب سے زیادہ بے چینی اقتدار کے حلقوں میں نظر آتی ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ رپورٹس سیاست دانوں کے لیے محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور سیاسی مسئلہ بھی بن گئیں۔ کئی مواقع پر یہ خبریں براہِ راست نااہلی کا باعث نہ بنیں مگر ووٹرز کے اعتماد کو ضرور متاثر کرتی رہیں۔ یہی عوامی شرمندگی اور مسلسل سوالات وہ اصل دباؤ تھا جس نے مالیاتی گوشواروں کی پبلک دستیابی کو حکمران اشرافیہ کے لیے ایک مستقل دردِ سر بنا دیا۔‘

قانونی ماہرین کے مطابق اس ترمیم کے بعد عوامی احتساب قریباً ختم ہو جائے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ناقدین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی رکن کے اثاثے واقعی جائز، آمدن شفاف اور ٹیکس ادائیگیاں قانون کے مطابق ہیں تو انہیں عوام کے سامنے لانے سے خوف کیوں؟ ان کے مطابق شفافیت سے گریز دراصل اسی عدم توازن کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے عوامی بحث سے دور رکھا جا رہا ہے۔
پروفیسر طاہر نعیم ملک کا کہنا ہے کہ احتساب کو اداروں کے کمروں تک محدود اور عوامی سوال کو غیر ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بحث اب صرف اثاثوں کی نہیں رہی بلکہ اس بنیادی سوال تک پہنچ چکی ہے کہ جمہوریت میں اصل طاقت کس کے پاس ہونی چاہیے ۔  
ان کے مطابق سنہ 2007کے بعد ملک میں مڈل کلاس کو اجاگر کرنے کی بات کی گئی اور ڈیولوشن پلان کے تحت مقامی حکومتوں کا تصور سامنے آیا جس میں اختیارات اور طاقت کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ ’تاہم یہ عمل کئی حوالوں سے عجیب اور غیر مؤثر ثابت ہوا۔ آج ہم موجودہ دورِ حکومت میں یہ منظرنامہ دیکھ رہے ہیں کہ جہاں پہلے بھی جمہوریت کمزور تھی اور نظریاتی بحران کا شکار تھی، اب اس کے ساتھ ساتھ میڈیا، پارلیمنٹ اور عدلیہ جیسے تین بنیادی ستون بھی کمزور دکھائی دے رہے ہیں اور اس طرح کی ترامیم کے ذریعے مزید کمزور کیے جا رہے ہیں۔‘ 
انہوں نے کہا کہ ’پہلے بہت سے استثنیٰ دیے جانے کے بعد اب ایک اور اہم استثنیٰ یہ سامنے آیا کہ ارکان کے اثاثے اب عوام اور میڈیا سے دور رہیں گے تو ایسے میں جمہوریت اور شفافیت کہاں سے آئے گی؟‘

شیئر: