گل پلازہ آتشزدگی: 70 افراد لاپتہ، ’لاشیں ہی دے دیں، سکون تو ملے‘
گل پلازہ آتشزدگی: 70 افراد لاپتہ، ’لاشیں ہی دے دیں، سکون تو ملے‘
جمعرات 22 جنوری 2026 10:55
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ میں مرنے والوں کی تعداد کم سے کم 55 تک پہنچ گئی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق کراچی کے جنوبی ضلع کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سنیچر کو پیش آنے والے واقعے کے بعد سے اب تک 55 لاشیں نکالی گئی ہیں۔
جو لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں ان کے رشتہ دار عمارت کے قریب ہی موجود ہیں اور ان کی جانب سے انتظامیہ کے آپریشن کو سست قرار دیتے ہوئے تنقید کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب تین منزلہ عمارت کے ملبے میں انسانی باقیات ڈھونڈنے کی کارروائی بھی جاری ہے۔
محکمہ صحت سندھ کی عہدیدار سمیہ سید نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ لاپتہ افراد کے 50 سے زائد خاندانوں نے ڈی این اے کے لیے سیمپل فراہم کیے ہیں۔
انہوں نے کراچی سول ہسپتال میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’ڈی این اے میچ ہونے کے بعد لاشیں متعلقہ خاندانوں کے حوالے کر دی جائیں گی۔‘
کراچی کے بازاروں اور کارخانوں میں آتشزدگی کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں ناقص میٹیرل استعمال کیا گیا تاہم اتنے بڑے پیمانے پر آگ لگنے کا واقعہ شاذ و نادر ہی ہوا ہے۔
فراز علی جن کے والد اور 26 سالہ بھائی آگ لگنے کے وقت عمارت کے اندر تھے، نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لاشیں برآمد ہو جائیں اور متعلقہ خاندانوں کے حوالے کر دی جائیں۔
لاپتہ افرد کے رشتہ دار اب بھی عمارت کے قریب موجود ہیں(فوٹو: اے ایف پی)
’ایسا اس لیے ضروری ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو کچھ سکون مل سکے، کم سے کم ہم ان کو آخری بار دیکھ تو سکیں، چاہے وہ کسی بھی حالت میں ہوں۔‘
ان کے مطابق ’ہم ان کو الوداع کہنا چاہتے ہیں۔‘
دوسری جانب صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے تاہم آگ لگنے کی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اب بھی لاپتہ لوگوں کے رشتہ داروں کی کافی تعداد مبلے کے قریب موجود ہے اور وہ اب بھی معجزوں کے منتظر ہیں۔
خیال رہے کراچی کی ایک کاروباری عمارت میں سنیچر کی رات اچانک آگ لگ گئی تھی، جس کے بعد ہلاکتوں کی مسلسل اطلاعات سامنے آتی رہیں۔
بعدازاں 33 گھنٹے کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا گیا اور بتایا گیا کہ 60 سے 70 افراد لاپتہ ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے فون نمبرز کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو وہ عمارت کے قریب ہی تھے۔
صوبائی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے ایک، ایک کروڑ روپے کا اعلان بھی کیا تھا۔